پاکستان کی ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دو ٹوک ردعمل

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان نے ایران پر اسرائیل کے حالیہ بلاجواز فضائی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کے روز ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حملہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑاتا ہے بلکہ انسانیت کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔
وزیر خارجہ نے ایران پر اسرائیل کے بلاجواز حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایران کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
’اس گھناؤنے اقدام نے بین الاقوامی قانون کی بنیادوں کے ساتھ ساتھ انسانیت کے ضمیر کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے، اور علاقائی استحکام و عالمی امن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پاکستان ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔‘
دوسری جانب، دفتر خارجہ کی جانب سے جاری باضابطہ بیان میں بھی اسرائیلی جارحیت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی خودمختاری پر حملہ کیا ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق ایران کو اقوام متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، پاکستان نہ صرف اس حق کو تسلیم کرتا ہے بلکہ ایرانی عوام کے ساتھ پوری قوت سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
’اسرائیل کی یہ اشتعال انگیزی پورے خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، جس کے اثرات علاقائی حدود سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔‘
پاکستان نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی بالادستی یقینی بنائے، اسرائیلی جارحیت کو فی الفور روکے اور حملہ آور ریاست کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے۔
یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں شدید انتقامی کارروائی کا عندیہ دیا ہے، اور خطے میں تناؤ انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے۔
