قید تنہائی کیاہے، عمران خان کو جیل میں کوئی ساتھی دیدیں جو ان کے ساتھ سیل میں رہے؟ خواجہ آصف

لاہور(قدرت روزنامہ)وزیر دفاع خواجہ آصف کی ایک ویڈیو شل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ عمران خان کی جانب قید تنہائی میں رکھنے کے الزام پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ قید تنہائی کیا ہوتی ہے ، ان کو کوئی ساتھی دیدیں جو ان کے ساتھ سیل میں رہے ؟۔
تفصیلات کے مطابق خواجہ آصف کا کہناتھا کہ جیسے جیسے دن گزرتے جارہے ہیں ان کی فرسٹریشن اور بڑھے گی ، جو عمران خان زبان استعمال کرتے ہیں وہ کبھی کسی نے نہیں کی ، جو انہوں نے اپنے دور حکومت میں سیاسی مخالفین کے ساتھ کیا ہے وہ ہماری تاریخ کا سیاہ باب ہے ، قید تنہائی کیا ہوتی ہے ، ان کو کوئی ساتھی دیں جو ان کے ساتھ سیل میں رہے ؟جیل میں تو بندہ نتہا ہی ہوتا ہے ، میں نے بھی چھ مہینے جیل میں گزارے ہیں ، میں بھی اکیلا تھا، آپ کے ساتھ مشقتی ہوتاہے سارا دن ، صبح آپ کو فجر کے وقت کھولتے ہیں اور شام کو مغرب کے وقت بند کر دیتے ہیں ، ایسی شخصیات کو عام قیدیوں کے ساتھ بات نہیں کرنے دیتے ، عام طور پر اکیلے ہی ہوتے ہیں، مجھے اٹک فورٹ میں رکھا گیا تھا ، مجھے چھ بائی چار سیل کے اندر رکھا گیا تھا ،وہ قید تنہائی بھگتیں تو پھر ان کو پتا لگے گا کہ قید تنہائی ہوتی کیا ہے، انہیں ساری سہولیات ملی ہوئی ہیں ،وہ خود بتا دیں کہ ان کی قید تنہائی کا کیا علاج کیا جائے ۔
عمران خان کو ساری سہولیات ملی ہوئی ہیں،اب ہم ان کی تنہائی کا کیا علاج کریں؟وزیردفاع خواجہ آصف🚨🚨🚨
قیدتنہائی کیا؟ان کوکوئی ساتھی دیں جو ان کےساتھ سیل میں رہے؟جیل میں توبندہ اپنے سیل میں تنہاہی ہوتا ہے،مجھے اٹک قلعہ میں چھ بائی چار کےسیل میں رکھاگیاتھا،خواجہ آصف@KhawajaMAsif pic.twitter.com/Uf6pIdEkm1
— عماد احمد Amad Ahmed (@Amad_ahmed_) July 28, 2025
