لاہور میں سیمینار کے دوران فحش ویڈیو چل گئی، خواتین کی موجودگی میں شرکاء منہ چھپانے لگے، پروگرام درہم برہم

لاہور(قدرت روزنامہ)لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں منعقدہ ایک اہم تعلیمی سیمینار اس وقت شدید ہنگامے کا شکار ہو گیا جب زوم کے ذریعے جاری اس پروگرام کے دوران پراجیکٹر پر اچانک فحش مواد چل پڑا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈینگی کی موجودہ صورتحال اور عالمی اقدامات کے عنوان سے ایک بین الاقوامی آن لائن سیمینار جاری تھا جس میں مختلف شعبہ ہائے صحت سے وابستہ ماہرین، خواتین، طلبہ اور حکومتی نمائندے بڑی تعداد میں شریک تھے۔
ذرائع کے مطابق، سیمینار میں صوبائی وزیر برائے صحت جاوید اکرم بھی شریک ہوئے تھے، تاہم ان کے رخصت ہونے کے کچھ ہی لمحوں بعد پراجیکٹر پر غیر اخلاقی ویڈیو کلپ چلنے لگا جس پر وہاں موجود شرکاء میں بے چینی اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔
دو منٹ تک یہ نازیبا کلپ بند نہ کیا جا سکا جس کے باعث انتظامیہ شدید دباؤ اور شرمندگی کا شکار ہوئی۔
واقعے کی ویڈیوز بعض شرکاء نے موبائل فونز کے ذریعے ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں جس کے بعد یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔
عوامی حلقوں، والدین، اساتذہ اور مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے اس واقعے پر سخت تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ زوم سیمینار تکنیکی عملے کی جانب سے چلایا جا رہا تھا تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فحش مواد کیسے آن ایئر ہوا۔ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی انتظامیہ نے اس واقعے کی باقاعدہ انکوائری کا اعلان کر دیا ہے اور تکنیکی عملے کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خواتین کی شرکت کو بھی متاثر کرتے ہیں، خاص طور پر ایسے پروگرامز میں جہاں تعلیمی اور عوامی مفاد کا پہلو غالب ہوتا ہے۔
عوامی سطح پر یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ آن لائن سیمینارز کے دوران سیکورٹی پروٹوکولز کو مزید سخت کیا جائے اور جدید تحفظاتی سافٹ ویئرز کا استعمال یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔
