شہبازشریف نام ہی نہیں، کام میں بھی شریف ہیں، پنجاب کی ٹاپ انتظامیہ نے بھی بے اعتناعی برتی: سہیل وڑائچ


لاہور(قدرت روزنامہ)حکمران طبقہ عمومی طورپر پروٹوکول انجوائے کرتا ہے لیکن اب کچھ لوگوں کے لیے اس پروٹوکول میں کچھ تبدیلی ہوئی تو سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہانی اپنے کالم میں لکھ دی۔
روزنامہ جنگ میں چھپنے والے اپنے کالم میں سہیل وڑائچ نے لکھا کہ “وزیراعظم پاکستان شہباز شریف ، صرف نام کے ہی شریف نہیں بلکہ کام میں بھی شریف ہیں ۔ریاست کے نظام میں وہ واحد شخصیت ہیں جو چیف ایگزیکٹو ہونے کے باوجود ہائبرڈ طرز حکومت کو پیشانی پر بل ڈالے بغیر مسکراتے ہوئے چلاتے چلےجا رہے ہیں۔ انہیں آج سے نہیں چار دہائیوں سے یقین ِکامل ہے کہ محنت اور خلوص سے پاکستان کی تقدیر کو بدلا اور اُجالا جاسکتا ہے۔ وہ پرامید ہیں کہ سر نیچے کر کے محنت سے کام کریں گے تو ایک دن واقعی سویلین حکمرانی اپنی اصل شکل میں قائم ہو جائیگی ،وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اہل سیاست کی نااہلی اور بُرے طرز حکمرانی کی وجہ سے ریاست مشکل میں ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اہلِ سیاست اور فوج ملکر ہی اس ملک کی نَیّا پار لگا سکتے ہیں۔
چند روز پہلے وزیراعظم پاکستان نے وزیر ریلوے حنیف عباسی کی دعوت پر لاہور سے کراچی کیلئے بزنس ایکسپریس ٹرین کا افتتاح کیا تو ان کی روایتی چمک غائب تھی شاید اسکی وجہ تھکن تھی یا پھر کام کا دباؤ۔ وزیراعظم واقعی شریف ہیں کہ پورے ملک کے چیف ایگزیکٹو اور وزیراعظم ہونے کے باوجود ان کیساتھ نہ وزیراعلیٰ پنجاب موجود تھیں نہ چیف سیکرٹری اور نہ ہی آئی جی پولیس۔ حالانکہ پروٹوکول کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم لاہور آئیں تو صوبے کی ٹاپ انتظامیہ ان کے ہم رکاب ہو۔ پنجاب کی یہی بے اعتنائی ہمیں صدر پاکستان آصف علی زرداری کے دورے کے دوران بھی نظر آتی ہے، صدر سےتو گویاخیر سگالی ملاقاتوں کی روایت ہی ختم کردی گئی ہے۔ اسے غرور کہیں، تکبّر کا نام دیں یا پھر بے انتہا مصروفیات کا نام دےلیں یہ روایت فیڈریشن کے اتحاد کیلئے خطرے کی علامت ہے، اگر یہی کام سندھ اور بلوچستان نے وزیراعظم شہبازشریف کے ساتھ شروع کر دیا تو پنجاب کے وزیراعظم کی کیا عزت رہ جائے گی۔؟
نوازشریف سندھ کے دورے پر گئے تھے تو آصف زرداری نے بلاول بھٹو کو انکی ہم رکابی اور ہر جگہ جذبہ خیرسگالی ظاہر کرنے کا پیغام دیا تھا، بظاہر شہبازشریف کی مرضی کی ٹیم کو لاہور سے زیادہ اسلام آباد میں چمکنا چاہئے تھا۔ پنجاب کی کابینہ میں سیاسی عناصر کا غلبہ ہوتا تھا جبکہ وفاقی کابینہ میں تو سیاسی عناصر آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ تاہم اقتدار کے شہر کوفہ میں وزیراعظم کی ’’پسندیدہ‘‘، ’’آزمودہ‘‘ اور ’’کرشمہ ساز‘‘ ٹیم ابھی تک کامیابی کا جھنڈا گاڑنے کی کوششوں میں ہے ،نہ سیاست ہو رہی ہے اور نہ دور رس سیاسی فیصلے۔ شوگر کی برآمد اور درآمد کا اسکینڈل اس ٹیم کی موجودگی میں ہوا،آخر کوئی تو ذمہ داری لے۔
شریف وزیراعظم کہہ سکتے ہیں کہ جو بدنام مسئلے ان پر تھوپے جا رہے ہیں ان کا سرے سے ان سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ وزیراعظم اور ان کی آزمودہ ٹیم سے جن حیرت ناک تبدیلیوں کی توقع تھی وہ رونما نہیں ہو رہیں بلکہ انکے رونما ہونے کے آثار بھی نہیں ہیں شریف وزیراعظم کا ماضی اور ان کا محنت و مشقت سے تیارکردہ ورثہ اس قدر تابناک ہے کہ لوگ کوفہ کو بھی لاہور کی طرح مسخر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر شریف وزیراعظم لاہور کی اندھیری گلیوں، تپتے بازاروں تک کو سر کر سکتے ہیں تووہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے کوفے کے آثار ختم کرکے اسے واقعی اسلام آباد کیوں نہیں بنا سکتے۔؟”

WhatsApp
Get Alert