چمن: پاک افغان سرحد پر مہاجرین کا انخلا جاری، تجارتی سرگرمیاں دوسرے روز بھی معطل


چمن(قدرت روزنامہ)بلوچستان کے ضلع چمن میں واقع پاک افغان سرحد بابِ دوستی پر افغان مہاجرین کے انخلا کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔
تاہم اس سرحدی مقام سے دوسرے روز بھی عام آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں۔


حکام کے مطابق افغان شہریوں کو وطن واپسی کی اجازت دی گئی ہے، البتہ دوطرفہ تجارت، امیگریشن اور پیدل آمدورفت بدستور بند ہے۔
ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ باب دوستی کے راستے باضابطہ آمدورفت تاحال معطل ہے، تاہم افغان خاندانوں کے لیے واپسی کا عمل صبح سے دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔


’انتظامیہ نے سرحدی علاقے میں عارضی رہائش، خوراک، پینے کے پانی اور طبی سہولیات کا انتظام کر رکھا ہے تاکہ واپس جانے والے خاندانوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔‘
انہوں نے کہا کہ بابِ دوستی کو گزشتہ روز ہر قسم کی دوطرفہ نقل و حرکت کے لیے بند کیا گیا تھا، مگر اب صرف مہاجرین کو انخلا کی اجازت دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:
امیگریشن سسٹم، ویزا اور پاسپورٹ کے تحت آمدورفت معطل ہے جبکہ پاک افغان دوطرفہ بارڈر ٹریڈ بھی مکمل طور پر رکی ہوئی ہے۔
سرحد کے دونوں جانب درجنوں تجارتی گاڑیاں اور سامان سے بھرے ٹرک پھنسے ہوئے ہیں جس سے تاجروں کو بھاری مالی نقصان کا خدشہ ہے۔
ڈپٹی کمشنر چمن کے مطابق علاقے میں سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے اضافی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
’انتظامیہ مکمل طور پر الرٹ ہے اور سرحد کے اطراف تمام علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔‘
ڈپٹی کمشنر حبیب بنگلزئی نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پرلانا اورانسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کو یقینی بنانا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک بلوچستان کے مختلف اضلاع سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد افغان مہاجرین وطن واپس بھیجے جا چکے ہیں، جب کہ انخلا کا عمل مرحلہ وار جاری ہے۔
دوسری جانب مقامی افراد کے مطابق سرحدی کشیدگی کے باوجود چمن شہر اور گردونواح میں حالات نسبتاً پُرامن ہیں۔
بازار کھلے ہیں، ٹرانسپورٹ جزوی طور پر بحال ہے اور شہری حالات کا بغور مشاہدہ کر رہے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert