بلوچستان پبلک سروس کمیشن 3 ماہ سے چیئرمین سے محروم، 4 ہزار سے زائد اہم تعیناتیاں کھٹائی میں پڑ گئیں
ایک لاکھ امیدوار نوکریوں کے منتظر، ٹینڈر وقت پر، تعیناتیاں تعطل کا شکار، حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

کوئٹہ(قدرت روزنامہ) بلوچستان میں اہم ترین آئینی ادارے بلوچستان پبلک سروس کمیشن (BPSC) میں گزشتہ تین ماہ سے چیئرمین کا عہدہ خالی پڑا ہے، جس کے باعث گریڈ 16 سے اعلیٰ گریڈز تک کی 4 ہزار سے زائد سرکاری آسامیوں پر تعیناتیوں کا عمل مکمل طور پر رک گیا ہے اور تقریباً ایک لاکھ امیدوار مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، BPSC کے سابق چیئرمین سالک خان اگست 2025 میں ریٹائر ہوگئے تھے، تاہم تین ماہ گزرنے کے باوجود صوبائی حکومت تاحال نئے چیئرمین کی تعیناتی عمل میں نہیں لا سکی ہے۔ اس تاخیر کے باعث ہزاروں آسامیوں پر بھرتی کا عمل معطل ہے، جن میں 600 آئی ٹی ٹیچرز (گریڈ 17)، تحصیلدار، نائب تحصیلدار سمیت محکمہ جات سی اینڈ ڈبلیو، پی اینڈ ڈی اور لوکل گورنمنٹ کی اہم آسامیاں شامل ہیں۔ ان آسامیوں کے لیے تقریباً ایک لاکھ نوجوان امیدوار منتظر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، صورتحال کی ستم ظریفی یہ ہے کہ جہاں اہم تعیناتیاں تعطل کا شکار ہیں، وہیں سرکاری ٹینڈرز کا عمل وقت پر جاری رہتا ہے، جس پر عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ حکومت کی ترجیحات کیا ہیں۔
چیئرمین BPSC کا بروقت تقرر نہ ہونے سے نہ صرف میرٹ پر تعیناتیوں کا عمل متاثر ہو رہا ہے بلکہ اس سے صوبے میں گورننس، ترقیاتی عمل اور سروسز کی فراہمی بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ بے روزگاری کے شکار صوبے میں 4 ہزار آسامیوں پر بھرتی سے تقریباً 40 ہزار خاندانوں کو معاشی ریلیف مل سکتا ہے۔ حال ہی میں لیویز فورس کی پولیس میں ضم ہونے کے بعد پولیس فورس میں بھی نئی بھرتیوں کے لیے BPSC کا فعال ہونا ضروری ہے تاکہ سفارش کلچر کی حوصلہ شکنی ہو۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال فروری میں بھی اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے BPSC میں تعیناتیوں میں تاخیر پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ اب ذمہ داری موجودہ صوبائی حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ فوری طور پر میرٹ پر چیئرمین BPSC کی تعیناتی عمل میں لائیں تاکہ ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے اور صوبے میں انتظامی امور بہتر انداز میں چلائے جا سکیں۔
