بلوچستان بھر میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر احتجاجی مظاہرے، جلسے اور ریلیاں
کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے یکجہتی، بھارت کے غیر قانونی قبضے کی مذمت

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان کے تمام اضلاع میں *یومِ سیاہ کشمیر* کے موقع پر بھارتی فوج کے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے، جلسے اور ریلیاں منعقد کی گئیں۔ صوبے بھر میں عوام کی بڑی تعداد نے کشمیر کے حق خود ارادیت کے لیے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
ہر شہر، قصبہ اور تحصیل میں کشمیری عوام سے اظہارِ حمایت کے لیے جلوس نکالے گئے، جن میں *کوئٹہ، خضدار، مستونگ، لسبیلہ، نصیرآباد، صحبت پور، جعفرآباد، سبی، ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، لورالائی، چمن، دکی، بارکھان، چاغی، شیرانی، تربت، پنجگور، واشک، خاران، گوادر، آواران، ہرنائی، قلات، مکران اور ڈیرہ مراد جمالی* شامل تھے۔
ریلیوں میں شریک شہریوں، طلبا، اساتذہ، سول افسران، قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا: *”کشمیر بنے گا پاکستان”، “بھارت ظلم بند کرو”، “ہم کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں”*۔ شرکا نے بھارت مخالف نعرے لگائے اور کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
مقررین نے کہا کہ *27 اکتوبر 1947 کا دن تاریخِ کشمیر کا سیاہ ترین دن ہے، جب بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر پر قبضہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ **مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی بے حرمتی، نوجوانوں کی جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل معمول بن چکے ہیں* اور عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے۔
شرکا نے مطالبہ کیا کہ *اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔* بلوچستان کے عوام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کشمیری بھائیوں کی جدوجہد آزادی میں ہر سطح پر ان کے ساتھ رہیں گے۔
ریلیوں کا اختتام *قومی ترانوں، کشمیری عوام کے حق میں دعاؤں اور “کشمیر بنے گا پاکستان” کے فلک شگاف نعروں* کے ساتھ ہوا۔
