انتظامیہ کا پی ٹی آئی کو کوئٹہ میں جلسے کی اجازت دینے سے انکار‘رپورٹ ہائیکورٹ میں جمع ‘ پی ٹی آئی کا ہر صورت جلسہ کرنیکا اعلان
تحریک تحفظ آئین پاکستان کی بھرپور حمایت، پرامن جلسے میں رکاوٹ کی اجازت نہیں دیں گے، حکومت پر تنقید

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بلوچستان اور تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل اتحادی جماعتوں نے 7 نومبر کو کوئٹہ کے ہاکی گراؤنڈ میں جلسہ عام ہر صورت منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے امن و امان کی خراب صورتحال کا بہانہ بنا کر جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، جس کی رپورٹ مبینہ طور پر ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی ہے۔ پی ٹی آئی بلوچستان کے صوبائی صدر داؤد شاہ کاکڑ، پشتون ملی عوامی پارٹی کے رحیم زیارتوال، بلوچستان نیشنل پارٹی کے آغا حسن بلوچ، مجلس وحدت المسلمین کے علامہ ولایت حسین جعفری اور دیگر رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پرامن جلسے کا انعقاد آئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے، جس میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پی ٹی آئی رہنما داؤد شاہ کاکڑ نے انتظامیہ کے انکار کو صوبائی حکومت کی ایماء پر قرار دیا اور کہا کہ ان کی جماعت انشاء اللہ 7 نومبر کو جلسہ کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ نے جلسے کو خراب کرنے کی کوشش کی تو حالات کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ انہوں نے فارم 47 حکومت کو عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام قرار دیا اور صوبائی وزراء پر لوٹ مار اور کرپشن میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ اتحادی جماعتوں نے انتظامیہ کے انکار کو سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی سازش قرار دیتے ہوئے 7 نومبر کے جلسے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور عہد کیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان ملک میں جمہوریت کی بحالی اور نام نہاد فارم 47 حکومت کے خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
