غیر منصفانہ این ایف سی فارمولا وفاقی نظام کی کمزوری کی علامت ہے، سابق سینیٹر ثنا بلوچ
وفاق کا حصہ کم، صوبوں کو بااختیار بنانا ہوگا تاکہ حقیقی اوموثر وفاق قائم ہوسکے، سابق سینیٹر بی این پی

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سابق سینیٹر ثنا بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ وفاقی اور مالیاتی نظام غیر منصفانہ اور فرسودہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی کا عمودی مالیاتی فارمولا آج بھی صوبوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتا۔
ثنا بلوچ کے مطابق اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم، صحت، پانی اور مقامی ترقی جیسے اہم شعبے صوبوں کی ذمہ داری بن چکے ہیں، مگر وفاق اب بھی تقسیم شدہ محصولات کا 42.5 فیصد اپنے پاس رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت، جرمنی اور کینیڈا جیسے وفاقی ممالک اپنے صوبوں یا ریاستوں کو زیادہ مالی حصہ دیتے ہیں تاکہ وسائل اور ذمہ داریوں میں توازن برقرار رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا وفاق کیسے مضبوط رہ سکتا ہے جب بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے صوبے سب سے زیادہ غربت اور کم ترین آمدنی کی صلاحیت رکھتے ہوں، مگر انہیں سب سے کم مالی گنجائش ملے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اب وقت ہے کہ وفاق کا حصہ کم کیا جائے، صوبائی خودمختاری میں اضافہ کیا جائے اور ایک منصفانہ، مثر اور حقیقی وفاق تشکیل دیا جائے۔
