بلوچستان اور وفاق کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کم کرنے کا واحد راستہ ‘‘اعتماد سازی’’ ہے۔ عوامی رائے کا احترام اس اعتماد سازی کی پہلی اور بنیادی شرط ہے،سینیٹر مولاناعبدالواسع

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)امیر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ صوبے کے بنیادی مسائل اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ جن نکات پر دس سال پہلے بات ہوسکتی تھی، آج اْن پر گفتگو ممکن نہیں رہی، اور جن امور پر آج بات ہو سکتی ہے، ایک سال بعد شاید اْن نقات پر نہ بیٹھا جاسکے۔ اس لیے جے یو آئی کی رائے میں صوبے پر نت نئے تجربات کرنے کے بجائے سنجیدہ سیاسی قوتیں سر جوڑ کر مستقل حل نکالیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور وفاق کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کم کرنے کا واحد راستہ ‘‘اعتماد سازی’’ ہے۔ عوامی رائے کا احترام اس اعتماد سازی کی پہلی اور بنیادی شرط ہے۔اعتماد سازی میں اولین نقطہ شفاف انتخابات ہے تاکہ عوامی رائے کا احترام کیا جائے. سیاسی سودے بازیوں نے صوبے کو بحرانوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ جمہوری اقدار پر زیرو ٹولیرنس کی پالیسی اپنائی جائے اور اس گمراہ کن مؤقف کی سختی سے نفی کی جائے کہ ‘‘پارلیمان صوبائی مسائل حل کرنے سے قاصر ہے۔انہوں نے کہا کہ حقیقی عوامی نمائندگی سے محروم رکھ کر انہی عناصر کے اس ناروہ بیانیے کی تائید کی گئی ہے جو پارلیمانی اداروں کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔سینیٹر عبدالواسع نے مزید کہا کہ کوئٹہ اہلِ بلوچستان کا مشترکہ گھر ہے، مگر بدقسمتی سے چھ ملین سے زائد آبادی کا یہ شہر کھنڈرات کی تصویر بنا ہوا ہے۔ جے یو آئی نے ماضی میں اس وادی کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا، مگر پچھلی حکومتوں نے ترقی کا سفرپٹڑی سے اتار دیا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح صوبے بھر کے بلدیاتی انتخابات میں جے یو آئی واحد اکثریتی قوت بن کر ابھری، اسی طرح کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات میں بھی شاندار کامیابی حاصل کرکے شہر کا نقشہ یکسر بدل دیا جائے گا۔ کوئٹہ جے یو آئی کا مضبوط گڑھ ہے، اور یہاں لاکھوں عوام کے سمندر نے ثابت کردیا کہ یہ شہر جے یو آئی کا سب سے مضبوط قلعہ ہے۔
