پشتون خطے کی انتظامی تقسیم شناخت پر حملہ ہے، پی ٹی آئی قومی جرم میں برابر کی شریک، قبائلی اراضی پر قبضہ قبول نہیں: اصغر خان اچکزئی

کو ئٹہ(قدرت روزنامہ)عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پشتون خطے کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنا پشتون قوم کے سیاسی قومی اور تاریخی حقوق اور ان کی پہچان پر حملہ ہے پشتون خوا اسمبلی کی قرارداد قابل مذمت عمل ہے پی ٹی آئی کے ایجنڈے میں پشتونوں کیلئے کچھ نہیں پشتونوں کے نام پر سیاست اور بلند وبانگ دعوے کرنیوالے پی ٹی آئی کے اس قومی جرم میں برابر کے شریک ہے موجودہ نظام میں پشتونوں کی شناخت سیاسی حیثیت اور جغرافیائی وحدت کو دانستہ طورپرتقسیم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اے این پی اور پشتون قوم ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی صوبہ بھر باالخصوص کوئٹہ میں مقامی قبائل کی اراضی لاکھوں ایکڑ کے حساب سے قبضہ کرنا قابل گرفت ہے اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھایا جائیگا ملکی سطح پر حکومت اور اپوزیشن دونوں ہائبرڈ ہیاس ٹوپی ڈرامیکیمنفی اثرات غریب پرور عوام پر پڑرہے ہیں عزیز ماما ہمہ گیر شخصیت کے مالک اور شروع دن سے فکر باچاخان کے داعی تھے ان کی افکار نوجوانوں کیلئے رول ماڈل کی حثیت رکھتا ہے ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی صوبائی پارلیمانی لیڈر انجنئیر زمرک خان اچکزئی صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عبیداللہ عابد صوبائی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری عبدالباری کاکڑ ضلعی صدور ثنااللہ کاکڑ اصغر علی ترین مرکزی کونسل ممبر ڈاکٹر عبداللہ خان کاکڑ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر طاہر شاہ کاکڑ ملگری وکیلان کے صوبائی صدر کلیم اللہ کاکڑ ایڈوکیٹ ودیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں پارٹی کے مرکزی رہنما ممتاز قانون دان ادیب لیکوال عزیز ماما کی 16ویں برسی کے موقع پر یاد ریفرنس سے خطاب کے دوران کیا مقررین نے کہا کہ عزیزِ ماما بیک وقت کئی صفات کے مالک تھے ان کی جہد نوجوانوں کیلئے رول ماڈل کی حثیت رکھتا ہے زمانہ طالب علمی سے لیکر مرتے دم تک پشتون قومی تحریک سے جڑے رہے اور کبھی بھی اپنی جہد پر پشیمان نہیں ہوئے ایک خوددار رہنما کے طور پر ان کی کاوشیں قابل تکلید ہے مقررین نے کہا کہ صو پشتون خوا اسمبلی سے ضلع ہزارہ کی قرارداد پشتون وحدت کے خلاف گھنانی فعل ہے اس قومی جرم میں پی ٹی ائی کے ساتھ ساتھ قوم کے نام پر سیاست کرنیوالے برابر کے شریک ہے عوامی نیشنل پارٹی تاریخ جغرافیہ ثقافت اور زبان کی بنیاد پر نئے قومی یونٹ کے حق میں ہے منقسم پشتون وطن کو ایک وحدتپشتونخوا میں پرونا عوامی نیشنل پارٹی کا ہدف ہے جہاں پشتونوں کو سیاسی معاشی اور انتظامی حقوق مکمل طور پر میسر ہو مقررین نے کہا کہ اس وقت ملک کے اندر حکومت اور اپوزیشن دونوں کمپرومائزڈ ہے غریب عوام سب سے زیادہ متاثر ہے ملکی سیاسی صورتِ حال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا مقررین نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری محاذ آرائی دراصل ایک ٹوپی ڈرامہ ہے جس کا واحد فائدہ اشرافیہ کو جبکہ نقصان عام اور غریب عوام کا ہو رہا ہے موجودہ رجیم اور اپوزیشن دونوں ہائبرڈ ہے اے این پی کے رہنماں نے کہا کہ پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک جتنے بھی حکمران آئے ان کی ترجیحات میں پشتون قوم کے لیے تعمیر و ترقی کا کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں رہا پشتون خطہ اور پشتون قوم ہمیشہ زیر عتاب رہا ہے لیکن بدلے میں یہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات تعلیم صحت روزگار اور تحفظ تک بھی میسر نہیں پشتون بلوچ اقوام کے آبااجداد کی اراضی کو الاٹمنٹ کے نام پر قبضہ کیا جارہاہے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے عوام چار سو چیک پوسٹوں کے حصار میں مقید ہے اور آئے روز اذیت جھیل رہی ہے رہنماں نے کہا کہ اے این پی کی جدوجہد کسی عہدے یا حکومت کے لیے نہیں بلکہ پشتون قوم کے حقوق شناخت اور بقا کے لیے ہے اور یہ جدوجہد جاری رہے گی مقررین نے ارواشاد عزیز ماما ایڈووکیٹ کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت و خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عزیز ماما ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے فکر باچاخان کے داعی سیاسی رہنما ممتاز قانوں دان اور اعلی پایہ کے ادیب دانشور و لیکوال تھے ان کی شخصیت نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے تقریب میں پارٹی رہنماوں نے ممتاز قانون دان ادیب اور پشتون دانشور عزیز ماما ایڈووکیٹ کی شخصیت اور خدمات کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا کہ عزیز ماما ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے وہ قانون ادب سیاست اور سماجی خدمت ہر میدان میں نمایاں مقام رکھتے تھیان کی زندگی نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال اور رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے رہنماں نے کہا کہ عزیز ماما نے اپنی پوری زندگی پشتون قوم کی فکری تربیت سیاسی شعور اور حقوق کے لیے وقف کی ان جیسی شخصیات معاشروں میں صدیوں بعدپیداہوتی ہیں تقریب میں بڑی تعداد میں سیاسی و سماجی شخصیات وکلا اور نوجوانوں نے شرکت کی۔
