سمنگلی اور نوحصار میں قبائلی زمینوں پر قبضہ قبول نہیں، عوام کو ہراساں کرنا بند کیا جائے: پشتونخوا نیپ

سکیورٹی کے نام پر نئی چوکیاں بنانے سے خوف و ہراس پھیل رہا ہے، پرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں: بیان


کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سمنگلی، نوحصار میں کاسی اور بازئی قبائل کی زمینوں پر کسی بھی ادارے یا فرد کو قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پارٹی نے واضح کیا کہ کاسی اور بازئی قبائل کی زمینیں تاریخی، قبائلی اور آئینی طور پر مقامی عوام کی ملکیت ہیں، جن پر زبردستی قبضہ غیر قانونی ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کی عزتِ نفس اور بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ائربیس کے قریب پہلے سے ایف سی کی ایک چوکی موجود ہونے کے باوجود نئی چوکی قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے زمینوں پر قبضے کا جواز بنایا جا رہا ہے۔ پارٹی کے مطابق اس اقدام سے امن و امان میں بہتری کے بجائے مقامی عوام میں خوف و ہراس، دبا اور احساسِ محرومی میں اضافہ ہو رہا ہے، جو عوام کو اپنی ہی زمین پر اجنبی بنانے کے مترادف ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ سیکیورٹی کے نام پر زمینوں پر قبضہ اور غیر ضروری چوکیاں قائم کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اگر واقعی امن مطلوب ہے تو اس کے لیے عوامی اعتماد، مشاورت اور آئینی طریقہ کار اپنایا جائے، نہ کہ طاقت اور جبر کے ذریعے مسائل کو مزید پیچیدہ بنایا جائے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پارٹی کاسی قبائل سمیت تمام مقامی عوام کے حقوق کے دفاع کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ اگر زمینوں پر قبضے کی کوششیں بند نہ کی گئیں اور عوام کو ہراساں کرنے کا عمل جاری رہا تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی پرامن احتجاج سمیت تمام جمہوری راستے اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔آخر میں پارٹی نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس غیر ضروری اقدام کو روکیں، عوام کے تحفظ، عزت اور حقوق کو یقینی بنائیں اور کسی بھی قسم کی زمین ہتھیانے کی کوشش سے باز رہیں۔

WhatsApp
Get Alert