شمالی وزیرستان میں بمباری پشتونوں کے خلاف اعلان جنگ ہے، دہشتگردوں کو بسانے والے فیض حمید اور دیگر کا احتساب کیا جائے: پشتونخوا نیپ

ریاستی جبر بند نہ ہوا تو سخت عوامی مزاحمت کریں گے، معصوم شہریوں کی شہادت پر خاموش نہیں رہ سکتے: مرکزی پریس ریلیز


کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں وزیرستان کی تحصیل میر علی کے علاقوں مسکئی اور ایسوری میں پاکستانی جیٹ طیاروں اور ڈرونز کی جانب سے کی گئی وحشیانہ بمباری کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اس سفاک حملے کے نتیجے میں معصوم شہریوں کی شہادت اور درجنوں افراد کے شدید زخمی ہونے کو کھلا ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور پشتون عوام کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا، بالخصوص وسطی پشتونخوا (سابقہ فاٹا) میں جاری نام نہاد آپریشن دہشت گردوں، ان کے مراکز اور محفوظ ٹھکانوں کے خلاف ہونے کے بجائے مسلسل بے گناہ، نہتے اور لاچار عوام کو نشانہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے جاری جیٹ طیاروں اور ڈرون حملوں میں سینکڑوں معصوم مرد، خواتین اور بچے شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، مگر نہ تو ان مظالم کا کوئی احتساب ہوا اور نہ ہی ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا گیا۔ پریس ریلیز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جن دہشت گردوں کے نام پر آج پشتون علاقوں کو آگ اور خون میں نہلایا جا رہا ہے، انہی دہشت گردوں کو سقوطِ کابل کے بعد مذاکرات کے نام پر منظم منصوبہ بندی کے تحت ہزاروں کی تعداد میں جیلوں اور مختلف علاقوں سے لا کر سابقہ فاٹا میں آباد کیا گیا۔ اس سنگین قومی جرم کے اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ریاستی طاقت کا رخ مظلوم عوام کی طرف موڑ دینا بدترین ناانصافی اور مجرمانہ طرزِ عمل ہے۔ بیان میں اس ضمن میں اس وقت کے آئی ایس آئی چیف فیض حمید، بیریسٹر سیف اور دیگر متعلقہ کرداروں کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے زور دے کر کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بالخصوص وسطی پشتونخوا (سابقہ فاٹا) میں فوری طور پر سویلین اداروں کی مکمل بالادستی قائم کی جائے، عوام پر بمباری اور اجتماعی سزا کا سلسلہ بند کیا جائے، اور دہشت گردی کے خلاف حقیقی، مثر اور ٹارگٹڈ کارروائیاں کی جائیں، نہ کہ پورے پورے علاقوں کو اجتماعی طور پر سزا دی جائے۔ بیان میں متنبہ کیا گیا ہے کہ پشتون عوام مزید لاشیں اٹھانے، گھروں کی تباہی اور بچوں کی لاشوں پر خاموش رہنے کو ہرگز تیار نہیں۔ اگر ریاست نے فوری طور پر اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی، بمباری بند نہ کی اور اصل ذمہ داروں کا تعین نہ کیا گیا تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی عوام کے ساتھ مل کر سخت عوامی احتجاج، جمہوری مزاحمت اور ہر آئینی و سیاسی راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ آخر میں پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرستان اور دیگر پشتون علاقوں میں ہونے والے تمام فضائی حملوں کی آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں، شہدا کے لواحقین کو فوری انصاف اور معاوضہ دیا جائے، زخمیوں کے مکمل علاج کا بندوبست کیا جائے اور پشتون خطے کو مستقل جنگی تجربہ گاہ بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

WhatsApp
Get Alert