بلدیاتی الیکشن کے التواء سے سب سے زیادہ نقصان جے یو آئی کو ہوا، کامران مرتضیٰ نے پارٹی کی طرف سے درخواست نہیں دی: جے یو آئی
400 امیدوار میدان میں تھے، ہم جیت رہے تھے اس لیے سازش ہوئی، پروپیگنڈا مسترد کرتے ہیں: مولانا عبدالرحمان رفیق و دیگر

کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحمن رفیق، ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، مولانا محمد سلیمان، مولانا حفیظ اللہ حافظ شبیر احمد مدنی، حافظ مسعود احمد، حافظ عبدالغنی شہزاد، میر سرفراز، مولانا محمد شعیب، مولانا سعید احمد، حاجی رحمت اللہ، مفتی محمد عارف شمشیر، عبدالصمد حقیار اور دیگر رہنماں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات کی التوا سے سب سے زیادہ نقصان جمعیت علما اسلام کو ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدید پیچیدہ، ناقص اور غیر شفاف بلدیاتی حلقہ بندیوں کے باوجود جمعیت علما اسلام نے بھرپور تیاری کے ساتھ انتخابی میدان میں اتر کر سب سے زیادہ امیدوار نامزد کیے اور سب سے زیادہ کونسلرز اور یونین کونسلز جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایسے میں یہ تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ اتنی بڑی تیاری اور نمایاں کامیابی کے باوجود جماعت خود انتخابات کی التوا کی کوشش کرے۔ابتدا میں بلدیاتی حلقہ بندیوں کی سنگین خامیوں، انتخابی فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری، مختصر مدت کے لیے بلدیاتی اداروں کی تشکیل اور دیگر عوامل کی بنیاد پر تمام سیاسی جماعتوں بشمول جمعیت علما اسلام نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے اور پیچیدگیوں کو دور کرکے درست حلقہ بندیوں پر انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا اورتمام آئینی و قانونی راستے آزما لیے گئے اور کوئی پیش رفت ممکن نہ رہی تو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جمعیت علما اسلام نے تمام تر تحفظات کے باوجود انتخابی عمل میں حصہ لینے، بھرپور انتخابی مہم چلانے اور انتخابات کے انعقاد پر زور دینے کا فیصلہ کیا۔ الحمدللہ، جمعیت علما اسلام نے پورے ضلع کوئٹہ میں چار سو سے زائد امیدوار نامزد کیے اور پہلے مرحلے میں چاروں ٹانز میں 45 کونسلرز اور 10 مکمل یونین کونسلز جیت کر واضح برتری حاصل کی۔ جماعت کے ذمہ داران، کارکنان اور نامزد کونسلرز نے دن رات ایک کر کے انتخابی مہم چلائی۔ اسی تسلسل میں گزشتہ روز ایک عظیم الشان کونسلرز کنونشن منعقد ہوا، جس میں 400 سے زائد کونسلرز اور سینکڑوں جماعتی ذمہ داران نے شرکت کی۔ لیکن انتخابی عمل کے آخری مرحلے میں بعض دیگر سیاسی جماعتوں نے بلدیاتی نظام کی خامیوں کے خلاف دوبارہ بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جو ان کا آئینی حق تھا۔ ان جماعتوں کی جانب سے جمعیت علما اسلام کو بھی فریق بننے کی دعوت دی گئی، تاہم صوبائی جماعت کی مشاورت سے جمعیت ضلع کوئٹہ نے ان مقدمات میں فریق نہ بننے اور انتخابات کے انعقاد کے مقف پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔ واضح کیا گیا کہ جمعیت علما اسلام تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے لیے احترام، رواداری اور باہمی ہم آہنگی پر یقین رکھتی ہے اور آئینی و قانونی جدوجہد کو ہر جماعت کا مسلمہ حق سمجھتی ہے۔ تاہم جب تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہوں، اس مرحلے پر انتخابات کی التوا کو کوئٹہ کے عوام اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ کھلی ناانصافی قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مخالفت اور مذمت کی جاتی ہے۔ آخر میں وضاحت کی گئی کہ محترم سینیٹر کامران مرتضی صاحب جماعت کے سینیٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ممتاز اور پیشہ ور وکیل بھی ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت میں زیرِ سماعت درخواستیں جمعیت علما اسلام کی جانب سے نہیں بلکہ سول سوسائٹی کے چند افراد اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں کی تھیں۔ اس سے قبل جمعیت علما اسلام کے دو ذمہ داران مولانا خورشید احمد اور مولانا محمد شعیب جدون نے بلوچستان ہائی کورٹ میں الگ الگ درخواستیں دائر کی تھیں، جنہیں عدالت نے مسترد کیا، جو ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس کے بعد جمعیت علما اسلام کے کسی بھی رکن نے انتخابات کی التوا کے حوالے سے کسی اعلی عدالتی فورم سے رجوع نہیں کیا۔ بعض عناصر لاعلمی، غلط فہمی یا بدنیتی کی بنیاد پر اس فیصلے کو جمعیت علما اسلام سے منسوب کر رہے ہیں، جو سراسر غلط، بے بنیاد اور خلافِ واقعہ ہے۔ جمعیت علما اسلام ایسے منفی پروپیگنڈوں سے ہرگز مرعوب نہیں ہوگی۔
