پاکستان نے وائٹ ہاؤس پر کیسے اپنا اثر جمایا، برطانوی اخبار ٹیلیگراف کی سنسنی خیزتجزیاتی رپورٹ جاری


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)برطانیہ کے معروف جریدے دی ٹیلیگراف نے اپنی اشاعت میں لکھا ہے کہ ’پاکستان نے واشنگٹن میں ایک بار پھر نمایاں حیثیت حاصل کر لی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے پہلے دورِ صدارت میں کشیدہ تعلقات کے باوجود وائٹ ہاؤس میں غیر معمولی پذیرائی حاصل کی ہے۔
’دی ٹیلیگراف ‘ نے اپنے اتوار کی اشاعت میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے حوالے سے سنسی خیز تجریہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں اہم موڑ مارچ میں آیا، جب پاکستان نے افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ کے ایبی گیٹ پر ہونے والے حملے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے میں امریکا کی مدد کی۔ اس حملے میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستانی حکام نے نہ صرف ملزم کو حراست میں لیا بلکہ اسے فوری طور پر واشنگٹن بھی روانہ کر دیا۔
صدر ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس تعاون کا کھلے الفاظ میں اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’آج رات مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے اس دہشت گردی کے ذمہ دار سرغنہ کو گرفتار کر لیا ہے‘ اور ’میں خاص طور پر پاکستان کی حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں‘۔
یہ پیش رفت صدر ٹرمپ کے پہلے دور کے بالکل برعکس تھی، جب انہوں نے پاکستان پر ’جھوٹ اور دھوکے‘ کے الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکی امداد لیتے ہوئے شدت پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے۔ تاہم اس بار پاکستانی حکام نے ایک منظم سفارتی حکمتِ عملی کے ذریعے واشنگٹن میں اپنا تاثر بہتر بنایا۔
پردے کے پیچھے پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کی انسدادِ دہشت گردی کی اولین ترجیحات میں سے ایک پر تعاون کیا۔ 2 مارچ کو امریکا نے محمد شریف اللہ، المعروف جعفر، پر کابل ایئرپورٹ حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا۔ چند ہی دنوں میں اسے امریکا منتقل کر دیا گیا، جسے دونوں ممالک کے حکام نے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا۔
ایک سینئر پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ ’یہ سب سے اہم قدم تھا‘ اور اسی لمحے سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی آئی۔ ایک سابق امریکی عہدیدار نے بھی اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
اپریل میں جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے دوران بھی پاکستان کا بڑھتا ہوا کردار نمایاں ہوا، جب بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے میزائل حملے کیے۔ پاکستان نے فضائی اور توپ خانے کے حملوں سے جواب دیا، جس سے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا۔
جہاں بھارت نے کسی بھی بیرونی ثالثی کو مسترد کیا، وہیں پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا۔ ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے مختلف ردِعمل نے واشنگٹن میں ان کی حیثیت کو متاثر کیا۔
ایٹلانٹک کونسل کے سینئر فیلو مائیکل کوگل مین کے مطابق ’پاکستان خوشامد کرنے پر آمادہ ہے، جبکہ بھارت سمیت کئی ممالک ایسا نہیں کرتے‘۔
اس دوران دونوں ممالک نے واشنگٹن میں لابنگ تیز کر دی۔ بھارت نے ٹرمپ مہم کے سابق مشیر جیسن ملر کی خدمات حاصل کیں، جبکہ پاکستان نے اس سے کہیں زیادہ رقم خرچ کرتے ہوئے بااثر لابنگ فرموں کی خدمات لیں، جن کے ٹرمپ سے قریبی تعلقات ہیں۔ ان میں جیولن ایڈوائزرز بھی شامل تھی، جسے ٹرمپ کے قریبی ساتھی کیتھ شلر اور جارج سوریل نے قائم کیا تھا۔
واشنگٹن کے حلقوں کے مطابق پاکستان کی حکمتِ عملی اس بات کی عکاس تھی کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے غیر روایتی انداز کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ اسی پس منظر میں جون میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا دورہ ہوا، جو دوطرفہ تعلقات کی ایک نمایاں علامت بن گیا۔
جنرل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک نجی اور غیر اعلانیہ ملاقات میں دوپہر کا کھانا کھایا، جو پاکستان میں سول ملٹری حساسیت کے باعث غیر معمولی سمجھی گئی۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے بعد ازاں کئی مواقع پر جنرل منیر کی تعریف کی اور انہیں اپنا ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ بھی قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان نے بدلتے ہوئے عالمی حالات سے بھی فائدہ اٹھایا ہے اور خود کو ٹرمپ کی امن کوششوں میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے۔ پاکستان نے خلیجی تعاون کونسل کے ممالک سے قریبی تعلقات، ایران سے روابط، مشرقِ وسطیٰ کے قریب جغرافیائی محلِ وقوع اور سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے کو نمایاں کیا ہے۔
معاشی پہلو بھی اس تعلق میں اہم رہا ہے۔ چین کی جانب سے اہم معدنیات پر غلبے کے تناظر میں پاکستان نے امریکا کو اپنے وسیع معدنی ذخائر تک رسائی کی پیشکش کی۔ ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس کے تحت پاکستان کے اندازاً 6 کھرب ڈالر مالیت کے معدنی وسائل امریکی کمپنیوں کے لیے کھولے جائیں گے۔
تاہم خدشات اب بھی موجود ہیں۔ پاکستان کی کمزور معیشت اور ماضی میں شدت پسند گروہوں سے تعلقات واشنگٹن میں تشویش کا باعث رہے ہیں۔ میککواری یونیورسٹی کے محقق دلبیر اہلاوت کے مطابق اگرچہ امریکا اور سعودی عرب کے ساتھ معاہدے پاکستان کی نئی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن اس کی ساختی کمزوریاں اسے ایک بار پھر سفارتی تنہائی کی طرف لے جا سکتی ہیں۔
فی الحال پاکستان کی سفارتی کوششوں نے اسے ٹرمپ کے واشنگٹن میں نمایاں رسائی دلائی ہے، مگر ماہرین کے مطابق اس مقام کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد کو مسلسل ٹھوس نتائج دینا ہوں گے۔

WhatsApp
Get Alert