تفتیش میں حقائق چھپانے اور بددیانتی پر بلوچستان پولیس انسپکٹر آصف خٹک ملازمت سے برطرف، قانون کے محافظوں کا جرائم میں ملوث ہونا لمحہ فکریہ ہے

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان پولیس کے انسپکٹر آصف خان خٹک کو سنگین بددیانتی اور ریکارڈ میں رد و بدل ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرف کر دیا۔سنٹرل پولیس آفس کوئٹہ سے جاری حکم نامے کے مطابق آصف خان خٹک پر الزام تھا کہ انہوں نے 2023میںتھانہ انڈسٹریل کوئٹہ میں تعیناتی کے دوران مقدمے کی تفتیش کے میں حقائق میں ردوبدل، غلط انجن اور چیسیس نمبرز درج کرنے اور شواہد میں تضاد پیدا کیا جس پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس کی رپورٹ کی روشنی میں ان پر الزامات ثابت ہوئے ہیں۔ انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا کہ افسر نے جائے وقوعہ سے متعلق اہم شواہد، تصاویر اور ویڈیوز کو نظر انداز کیا اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل اختیار کیا۔حکم نامے کے مطابق مذکورہ کیس میں مدعی کی شکایت پر درج مقدمے کی تفتیش کے دوران افسر نے ایک مختلف موٹر سائیکل کے کوائف شامل کیے، جس کے باعث کیس مشکوک ہو گیا، جبکہ عدالت نے مقدمے میں نامزد ملزمان کو بری کر دیا۔محکمانہ انکوائری میں افسر کو غفلت، بددیانتی اور دانستہ بے ضابطگیوں کا مرتکب قرار دیا گیا۔ انہیں شوکاز نوٹس جاری کر کے ذاتی صفائی کا موقع بھی دیا گیا، تاہم وہ الزامات کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔حکام کے مطابق تمام شواہد اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد پولیس افسر کے خلاف الزامات ثابت ہونے پر پولیس ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 1975 کے تحت انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کی سزا سنائی گئی ہے۔
