قدرتی وسائل کے باوجود بلوچستان محرومی کی تصویر، جے یو آئی ہی واحد حل ہے: مولانا عبدالواسع
قائد جمعیت کے خلاف استعمال ہونے والے مہرے پسپا ہوگئے، حکمران صرف اپنے مفادات کے اسیر ہیں: سینیٹر جے یو آئی

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ صوبے کے طول و عرض سے تمام مکاتبِ فکر، علاقوں اور اکائیوں کی حقیقی نمائندگی کا اعزاز صرف جمعیت علماء اسلام کو حاصل ہے۔ مصنوعی، نو وارد جماعتوں اور وقتی چہروں نے بلوچستان کو مزید سیاسی انتشار، بے یقینی اور عدم استحکام کی دلدل میں دھکیلا ہے، جبکہ جے یو آئی نے ہمیشہ اصول، استحکام اور عوامی خدمت کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔مولانا عبدالواسع نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بلوچستان کے دیرینہ مسائل کا واحد سنجیدہ، باوقار اور پائیدار حل جمعیت علماء اسلام کے پاس ہے، کیونکہ یہی جماعت نظریے، کردار، عوامی اعتماد اور ایک طویل، بے لوث جدوجہد کی امین ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اور قائدِ جمعیت کے خلاف استعمال کیے جانے والے مہرے کوئی نئی بات نہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہر دور میں ایسے کردار سامنے لائے گئے، مگر انجام کار وہ خود ہی سیاسی میدان سے پسپا ہو گئے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ استعمال کے بعد ناکارہ ہو جانے والے عناصر اپنی وقعت خود گرا دیتے ہیں، جبکہ نظریے، اصول اور عوامی وابستگی پر قائم رہنے والی جماعتیں ہی تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔امیر جے یو آئی بلوچستان نے کہا کہ قائد جمعیت، اہلِ مدارس اور جمعیت علماء اسلام آج بھی اپنے دینی تشخص، نظریاتی اساس اور عوامی خدمت کے مشن پر پوری استقامت کے ساتھ کاربند ہیں، جبکہ وقتی فائدے کے اسیر کردار آج سیاسی منظرنامے سے غائب ہو چکے ہیں، کیونکہ ان کی سیاست نہ اصولوں پر کھڑی تھی اور نہ ہی عوامی اعتماد پر قائم تھی۔موجودہ صوبائی حکومت کی مجموعی کارکردگی نہ عوامی توقعات کی آئینہ دار ہے اور نہ ہی کسی صورت اطمینان بخش قرار دی جا سکتی ہے۔ حکومت اپنے نصف دورِ اقتدار میں عوام کو سہولیات دینے کے بجائے محض وعدوں، طفل تسلیوں اور نمائشی بیانات کے سوا کچھ فراہم نہ کر سکی۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بلوچستان آج بھی محرومی، بدحالی اور انتظامی ناکامیوں کی بدترین مثال بنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ غریب، محنت کش اور پریشان حال عوام کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ ایوانِ اقتدار میں براجمان طبقہ عوامی مسائل سے دانستہ طور پر چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ آج بھی بنیادی سہولیات، روزگار کے مواقع، صحت، تعلیم اور امن و امان عوام کے لیے ایک خواب بن چکے ہیں، جبکہ حکمرانوں کی ترجیحات ذاتی مفادات، وقتی سیاسی مفاہمت اور اقتدار کے تحفظ تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔مولانا عبدالواسع نے واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام وہ واحد منظم سیاسی قوت ہے جو مسلسل سیاسی انجینئرنگ، انتقامی کارروائیوں اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ جن عناصر نے عوامی مینڈیٹ پر شب خون مار کر خود کو سیاسی قوت ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی، وہ آج دھوکہ دہی، موقع پرستی اور مصنوعی سیاست کے سہارے اپنی بقا کی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی حمایت کے بغیر قائم کی گئی سیاست زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام سیاست میں شائستگی، برداشت، رواداری اور قبائلی و سماجی اقدار کی پاسداری پر یقین رکھتی ہے۔ جے یو آئی نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی کبھی جمہوری، قبائلی اور سیاسی روایات کو پامال نہیں کیا۔ جماعت نے ہمیشہ صوبے کے اجتماعی مفاد کو ذاتی اور جماعتی فائدے پر ترجیح دی، چاہے اس اصولی مؤقف کی قیمت وقتی سیاسی نقصان کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑی۔امیر جے یو آئی بلوچستان نے کہا کہ حکومت کو جمعیت علماء اسلام کے اس سنجیدہ، مثبت اور ذمہ دارانہ کردار کا ادراک کرنا ہوگا۔ آج بلوچستان کے عوام مسائل کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اور ان کی مؤثر، توانا اور حقیقی آواز اگر کوئی ہے تو وہ جمعیت علماء اسلام ہے، جو ہر فورم پر عوام کے حقوق کی ترجمانی کر رہی ہے۔
