عبدالرزاق خان دوتانی کی 38 ویں برسی 9 جنوری کو منائی جائے گی، لورالائی میں مرکزی جلسہ ہوگا: پشتونخوا نیپ

مرحوم رہنما نے قومی تحریک کو متحد کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا، کارکن تیاری کریں: مرکزی پریس ریلیز


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوانیشنل عوامی پارٹی کےمرکزی سیکریٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیاہے کہ پشتونخوا نیپ کے سابق مرکزی جنرل سیکریٹری اور پشتون قومی سیاسی تحریک کے اہم رہنما ارواشاد عبدالرزاق خان دوتانی کی 38 ویں برسی 9 جنوری کو پشتونخوا نیپ کے زیر اہتمام نہایت احترام و عقیدت کے ساتھ منائی جائیگی۔ اس سلسلے میں مرکزی تعزیتی جلسہ عام 9 جنوری کو لورالائی میں منعقد ہوگی۔ جس سے پارٹی کے مرکزی اور صوبائی رہنما خطاب کرینگے ۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ جلسہ عام میں شرکت کرکے اروا شاد عبدالرزاق خان دوتانی کے پشتون قومی تحریک میں اہم کردار پر خراج عقیدت پیش کریں ۔ اور کارکنوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ جلسہ عام کی تیاریوں کیلئے بھر پور کام کریں۔ بیان میں کہا گیاہے کہ ارواشاد عبدالرزاق خان دوتانی پشتون افغان قومی سیاسی تحریک کے ایک عظیم، مدبر اور نظریاتی رہنما تھے، جنہوں نے 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں پشتون قومی تحریک کو متحد، منظم اور مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں ایک تاریخی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ قومی سیاست کے اس نازک دور میں مختلف نظریاتی اور عوامی قوتوں کو یکجا کرنا ایک انتہائی مشکل مرحلہ تھا، تاہم ارواشاد عبدالرزاق دوتانی نے اپنی سیاسی بصیرت، فکری گہرائی اور مخلصانہ جدوجہد کے ذریعے اس خواب کو حقیقت میں بدلا۔ اس وقت کی پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور پشتونخوا مزدور کسان پارٹی کے اتحاد، نیز بعد ازاں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی اتحاد کے قیام جیسے اہم سیاسی سنگِ میل ان ہی کی تاریخی کاوشوں کا نتیجہ تھے۔ 9 جنوری 1988ء کو اس اہم قومی رہنما کا انتقال پشتون افغان ملت اور مجموعی طور پر قومی جمہوری تحریک کے لیے ایک ناقابلِ تلافی قومی سانحہ تھا۔ مرحوم رہنما نے قومی تحریک کی علمبردار جماعتوں کو قومی اور وطنی بنیادوں پر متحد کرنے کی مضبوط فکری و عملی بنیاد رکھی۔ وہ اس نظریے کے علمبردار تھے کہ پشتونخوا ایک محکوم وطن ہے، جس کی ملی وحدت، قومی خودمختاری اور ایک متحد قومی صوبہ پشتونخوا کا قیام ناگزیر ہے۔ اسی طرح وہ آزاد افغانستان کی ملی استقلال، آزادی اور سالمیت کے دفاع کو بھی خطے کے امن اور قوموں کی بقا کے لیے لازم سمجھتے تھے۔ارواشاد عبدالرزاق خان دوتانی اس بات پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ پشتونخوا وطن میں نظریاتی، سائنسی اور علمی بنیادوں پر ایک ایسی نمائندہ قومی سیاسی جماعت کا قیام عمل میں لایا جائے، جسے وطن دوست عوام اور ہر مکتبِ فکر کے نمائندوں کی بھرپور تائید و حمایت حاصل ہو۔ افسوس کہ وہ جوانی ہی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے، تاہم ان کی فکری وراثت آج بھی قومی سیاست کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کے قائم کردہ پشتونخوا میپ اور ان کے افکار کے تسلسل میں پشتون رہبر کمیٹی اور پشتونخوا نیشنل الائنس کا قیام اسی مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا کہ پشتونخوا وطن کی تمام قومی و جمہوری جماعتوں کو قومی اہداف کے حصول کے لیے یا تو ایک منظم قومی جماعت یا ایک متحد قومی محاذ میں یکجا کیا جائے۔ اسی جدوجہد کے تسلسل میں محکوم پشتون، بلوچ، سندھی اور سرائیکی قوموں کا مشترکہ محاذ پونم قائم کیا گیا، جس نے پاکستان میں رضاکارانہ فیڈریشن کے قیام، قوموں کی برابری، اپنے وسائل پر قومی حق و ملکیت اور حقیقی وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے ایک تاریخی کردار ادا کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ پشتونخوا میپ کے سابق چیئرمین کے افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ سیاسی کردار کے باعث یہ تاریخی جماعت تقسیم کا شکار ہو گئی۔ تاہم پشتون افغان ملت کی خوش قسمتی یہ ہے کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے قومی تحریک کی جدوجہد کو ہر مرحلے پر بھرپور استقامت کے ساتھ جاری رکھا۔ پارٹی نے قومی تحریک کے تمام اکابرین، خصوصاً خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی، باچا خان، کاکاجی صنوبر حسین مومند، عبدالرحیم مندوخیل، شیرعلی باچا، سائیں کمال خان شیرانی، عبدالرزاق خان دوتانی جیسے رہنماؤں اور عظیم قومی شہید عثمان خان کاکڑ سمیت دیگر ملی شہداء کے متعین کردہ قومی اہداف کے حصول کی جدوجہد کو عزم، جرأت، حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھایا۔ آخر میں بیان میں واضح کیا گیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی، ارواشاد عبدالرزاق خان دوتانی اور دیگر عظیم قومی رہنماؤں کے ملی ارمانوں کی تکمیل کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی اور قومی آزادی، خودمختاری اور جمہوری حقوق کی جدوجہد ہر صورت جاری رکھی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert