آج کے حالات آمریت سے بھی خطرناک، محمود اچکزئی پر حملہ حکمرانوں کی بوکھلاہٹ، جدوجہد جاری رہے گی: عبدالرحیم زیارتوال


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سابق مرکزی جنرل سیکرٹری مرحوم عبدالرزاق خان دوتانی کی 38ویں برسی کے موقع پر تعزیتی ریفرنس پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتول کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس سے مرکزی سیکرٹریز ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، صلاح الدین اچکزئی، پارٹی کے سینئر رکن ڈاکٹر شربت مندوخیل، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری صورت خان کاکڑ، ضلع چمن کے سیکرٹری جمال خان اچکزئی، ضلع کوئٹہ کے سینئر معاونین سعید خان کاکڑ، جمشید دوتانی، ضلع مالیات سیکرٹری ڈاکٹر تواب اچکزئی، پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن جنوبی پشتونخوا زون کے رابطہ آرگنائزر بشیر افغان نے خطاب کیا۔ سٹیج کی کارروائی اور قراردادیں صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان نے پیش کی جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت ضلع معاون سیکرٹری رحمت اللہ ناظم نے حاصل کی۔ تعزیتی ریرنفرنس میں پارٹی کے صوبائی آفس سیکرٹری ملک عمر کاکڑ، صوبائی رابطہ سیکرٹری گل خلجی، ضلع قلعہ سیف اللہ کے سینئر معاون سیکرٹری نقیب پامیر، ضلع کوئٹہ کے ایگزیکٹیوز وضلع کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ عبدالرحیم زیارتوال نے اپنے صدارتی خطاب میں عبدالرزاق خان دوتانی کو ان کی قومی،سیاسی،جمہوری خدمات اور لازوال جدوجہد، پارٹی منظم کرنے پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی اروشاد عبدالرزاق دوتانی کے ملی ارمانوں کی تکمیل ضرورکریگی جس کے لیے منظم اور مضبوط تنظیم ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق خان دوتانی نے ایک سچے اور مخلص سیاسی کارکن کی حیثیت سے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام کو منظم کرنے اورپارٹی کو ایک مضبوط ومنظم تنظیم بنانے میں اپنا اہم اور تاریخی کردارادا کیااور پارٹی کو مستحکم اور برقرار رکھا۔ہم اپنے قومی، وطنی ہیروز کی یاد مناتے رہیں گے آج بھی عبدالرزاق دوتانی کی برسی کو نہایت عقیدت کے ساتھ منائی جارہی ہے انہوں نے قومی پارٹی اور اس کے پروگرام کو انجینئرنگ کی ڈگری  کے ہوتے ہوئے سرکاری ملازمت، مراعات کی بجائے اپنے قومی عوامی خدمت اور سیاسی جدوجہد کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور مشرف کے آمرانہ ادوار میں جو حالات تھے آج کی صورتحال اس سے بھی انتہائی خطرناک بنادی گئی ہے۔ آج آئین، جمہوریت پائمال ہے، صنعت، زراعت، روزگار، تجارت کے مواقع ختم ہو چکے ہیں، کرپشن وکمیشن، پرسنٹ نے اداروں کو مفلوج بنادیا ہے۔ امن، تعلیم، صحت کی سہولیات، پینے کا صاف پانی، روزگار ناپید ہوچکا ہے،اقوام وعوام کے وسائل، معدنیات،جنگلات، زراعت، زمینوں پر قبضہ کرنے کے لیے انتقالات کیئے جارہے ہیں۔ ملک میں پارلیمنٹ کی بے توقیری جاری ہے، 8فروری 2024کو جس بھونڈے انداز میں عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا نتیجتاً آج ملک اپنی تاریخ کے بدترین بحرانوں سے دوچار اور عالمی طور پر تنہائی کا سامنا کررہا ہے، ملک میں پشتون عوام زندگی گزارنے کے تمام مواقع چھینے جارہے ہیں، شناختی کارڈ جیسے بنیادی دستاویز سے محروم رکھا جارہا ہے، تجارت، روزگار، مزدوری کے لیے نہیں چھوڑا جارہا ہے۔ملک اور صوبے میں پشتونوں کو تیسرے درجے شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔ جب تک پشتون سیاسی واک واختیار حاصل نہیں کرلیتے ان مسائل اور محرومیوں کا سامنا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ملک کے جمہوری تحریک کے عظیم قائد اور پشتونخوامیپ کے محبوب چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس کے قافلے پر ہونیوالا حملہ حکمرانوں کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ اس غیر آئینی، غیر جمہوری، غیر انسانی ناروا عمل کی پشتونخواملی عوامی پارٹی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اس طرح کے مکروہ عمل سے ملک میں آئین کی بالادستی، جمہور کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی جمہوری فیڈریشن کے قیام، تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی، مسلط فارم 47کی حکومتوں کے خاتمے، ملک میں از سر نو صاف شفاف اور خودمختار الیکشن کمیشن کے تحت انتخابات کے انعقاد، عوام کے ووٹ کا احترام، سیاست اور انتخابات میں اداروں کی مداخلت کے خاتمے کے لیے جاری جدوجہد کسی صورت دستبردار نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کے محکوم اقوام ومظلوم عوام کی امیدیں جمہوریت کے علمبردار اور عظیم قائد محمود خان اچکزئی سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس جمہوری جدوجہد کے دوران پشتونخواملی عوامی پارٹی کے ہر کارکن کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے ہر قسم کے حالات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ اپنے وطن اور اس کے وسائل کی دفاع اور وعوام کے حقوق کے لیے جاری جدوجہد میں اپنا ف…

WhatsApp
Get Alert