حکومت اور ملازمین میں ڈیڈ لاک، خزانے پر 20 ارب کا بوجھ نہیں ڈال سکتے، وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی ‘ 50 رہنما گرفتار، اساتذہ معطل

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ )صوبائی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ حکومت کو ملازمین کی مشکلات کا احساس ہے اور انہیں مختلف سہولیات دی جارہی ہیں، تاہم صوبے میں ساڑھے تین لاکھ ملازمین کو ڈی آر اے الانس دینے سے 20 ارب روپے تک اضافی اخراجات آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے یہ فیصلہ جلدی میں نہیں لیا جا سکتا اور اس پر مشاورت جاری ہے۔ وزیر خزانہ نے ملازمین سے اپیل کی کہ حکومت کے فیصلے تک کوئی انتہائی قدم نہ اٹھائیں۔دوسری جانب بلوچستان گرینڈ الائنس کے سربراہ عبدالقدوس کاکڑ نے کہا کہ دیگر صوبوں اور وفاقی حکومت نے ڈی آر اے الانس دیا ہے، لیکن بلوچستان حکومت اس پر آمادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں یہ ملازمین کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی اپنی کمیٹی نے بھی اس کی حمایت کی ہے، مگر وزیراعلی ان سفارشات پر عمل نہیں کر رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گورنر، وزیراعلی، اسمبلی سیکریٹریٹ، سول سیکریٹریٹ اور ہائی کورٹ کے ملازمین کو زیادہ تنخواہیں دی جاتی ہیں، جبکہ دیگر محکموں میں اسی درجے کے ملازمین کو کم تنخواہیں ملتی ہیں۔ اس فرق کو ختم کرنے کے لیے ڈی آر اے الانس ضروری ہے۔عبدالقادوس کاکڑ نے الزام لگایا کہ حکومت نے وعدوں کے باوجود مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے انتقامی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ مختلف شہروں میں رہنماں کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اب تک 50 سے زائد ملازمین گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ پندرہ پہلے ہی کوئٹہ جیل میں قید ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف کالجوں کے 38 پروفیسرز کو بھی احتجاج میں شرکت پر معطل کیا گیا ہے۔
