حکومت عمران خان کی صحت پر ابہام دور کرے، پارلیمنٹ میں پرامن دھرنا جاری رہیگا ، محمود خان اچکزئی


اسلام آباد ،کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے پیدا شدہ ابہام اور سپریم کورٹ میں درج رپورٹ کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ ہاس کے سامنے پرامن دھرنا دیں گے۔چیئرمین نے وضاحت کی کہ یہ دھرنا کسی قسم کے تشدد، گالی یا پتھر بازی کے بغیر ہوگا اور احتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک عمران خان کو ماہر ڈاکٹروں یا الشفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا تاکہ عوام اور بین الاقوامی برادری میں پائی جانے والی تشویش دور ہو سکے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ حکومت نے دھرنے میں شریک افراد کو کئی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا ہے۔ بعض افراد کو عمارتوں میں داخل ہونے سے روکا گیا، کھانے پینے کی اشیا پر پابندی لگا دی گئی اور بیمار افراد کے لیے دوائیوں کی رسائی محدود کر دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ دھرنے میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی موجود ہیں، اور اس پابندی کی وجہ سے ان کے بنیادی انسانی حقوق شدید متاثر ہو رہے ہیں۔چیئرمین تحریک نے حکومت کے رویے کو انتہائی فسطائیت کی انتہا قرار دیا اور کہا کہ ایک پرامن انسانی ہمدردی پر مبنی احتجاج کو بھی روکنا غیر آئینی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک کسی قسم کی منت نہیں کر رہی اور نہ ہی قربانی دینے کو تیار ہے، بلکہ یہ احتجاج ایک انسان کی زندگی اور صحت کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے، جو ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔انہوں نے عالمی برادری اور پاکستانی عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے رویوں پر توجہ دیں جو جمہوری اصولوں اور انسانی ہمدردی کے خلاف ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے حکومت سے کہا کہ وہ فوری طور پر عمران خان کی فوری اور محفوظ طبی امداد کو یقینی بنائے تاکہ اس معاملے پر پیدا شدہ ابہام ختم ہو اور عوام میں اعتماد بحال ہو سکے۔

WhatsApp
Get Alert