پشتون وطن کی جغرافیائی حیثیت مسخ کرنے کی سازش، زیارت کی علیحدگی اور کوئٹہ میں جنوبی اضلاع کی شمولیت مسترد، پشتونخوا نیپ کا بھرپور احتجاج کا الٹی میٹم

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ): پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں صوبائی حکومت کے حالیہ متنازعہ اور یکطرفہ فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے پشتون دشمن، غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی اقدام قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ضلع زیارت کو سبی ڈویژن سے الگ کرنا اور کوئٹہ ڈویژن کی انتظامی ساخت میں جنوب سے اضلاع شامل کرنا پشتون وطن کی تاریخی اور سیاسی حیثیت کو مسخ کرنے کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ پارٹی کے مطابق ضلع زیارت کی سبی ڈویژن سے وابستگی ایک تاریخی اور سماجی حقیقت ہے، جبکہ کوئٹہ میں جنوب سے اضلاع کی شمولیت ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو اور پشتون بلوچ قیادت کے مابین ہونے والے اعلیٰ سطح کے فیصلوں کی نفی ہے۔ بیان میں اس اقدام کو سیاسی انجینئرنگ اور مخصوص مفادات کے تحفظ کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ “فارم 47” کی بنیاد پر قائم حکومت نے متعلقہ عوام اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بغیر یہ فیصلہ خفیہ انداز میں مسلط کیا ہے، جو جمہوری اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اس غیر شفاف تقسیم سے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوامی مسائل میں اضافہ ہوگا، لہٰذا اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر یہ غیر آئینی فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو پارٹی عدالتوں سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ صوبہ گیر احتجاجی تحریک، عوامی رابطہ مہم اور بھرپور مزاحمت کا حق محفوظ رکھتی ہے، کیونکہ پشتونوں کے انتظامی حقوق اور جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
