سائفر کا معاملہ اور عمران خان کابینہ کا کردار، مراد سعید نے آنکھوں دیکھا حال بیان کردیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سائفر کے معاملے میں عمران خان کابینہ میں اختلافات اور عمران خان کی حالت سے متعلق مراد سعید نے اپنی کتاب میں آنکھوں دیکھا حال بیان کردیا۔
اپنی کتاب میں مراد سعید نے لکھا کہ “بتایا تھا کہ باجوہ آپ کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے ہوئے ہے؟ اب جو فیصلہ کیا ہے اس فیصلے پر قائم رہیں۔ شفقت محمود میری بات کاٹتے ہوئے بولے کہ توہین عدالت لگ جائے گی۔ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان جو اسی دوران ہی کمرے میں داخل ہوئے تھے بولے آرٹیکل چھ اور توہین عدالت وزیراعظم اور ان کی کابینہ پر کیسے لگ سکتی ہے جب اسپیکر کی رولنگ موجود ہے کہ سائفر کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ کابینہ کا اختیار ہے سائفر ڈی کلاسیفائی کرنا جو انہوں نے کیا۔
مزید لکھا کہ اسد عمر بولے آپ کی سب باتیں ٹھیک ہیں لیکن اب جیسا ہے ویسے کردینا چاہیے، ہمارے پاس اور کوئی آپشن نہیں۔ اس گفتگو سے شہ پا کر فواد چوہدری نے بھی اسد عمر کی تائید کی، میں نے پوچھا اور فواد بھائی جو وزیر قانون کی حیثیت سے آپ نے اسمبلی میں تقریر پر جھاڑی تھی، اس کا کیا ہے؟ فواد کے لہجے میں جھنجلاہٹ تھی۔ میں نے کہا نہ نہیں ہے ہم میں اتنا دم۔ ہماری گفتگو کے درمیان ہی شہباز گل کمرے میں داخل ہوئے تھے۔ گل نے فواد کی بات کے جواب میں کہا کہ میں مراد کی بات سے متفق ہوں، ہمیں کھڑا رہنا چاہیے۔ گل کے اتنا کہنے کی دیر تھی، وہ جھنجلاہٹ جو مجھ پر نہیں نکالی جاسکتی تھی اس وقت شہباز گل کی میری تائید کرنے سے غصے میں بدل گئی۔
کس کس کو یہ واقعہ یاد ہے جب اسد عمر اور فواد چوہدری پریس کانفرنس میں بول رہے تھے بعد میں جب شہباز گل بولنے لگے تو یہ دونوں ان کو اگنور کر کے چلے گیے
اس وقت تو بات سمجھ نہیں آئ تھی لیکن آج مراد سعید کی کتاب کے اس صفحے نے سب کچھ سمجھادیا۔ @SHABAZGIL pic.twitter.com/ZBLbkpk2uS— Sarah Naeem Khan (@sarah_naeem01) March 3, 2026
انہوں نے مزید لکھا کہ وزیراعظم کی موجودگی میں ہی اسد عمر، شہباز گل پر دھاڑے کہ تم کون ہوتے ہو، ہمیں مشورے دینے والے، سب واضح تھا۔ کابینہ کے سینیئر اراکین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں ملی تھیں۔ ہاتھ کے اشارے سے اسد عمر کو خاموش رہنے کا کہتے ہوئے، اس ہارے ہوئے لشکر کا بہادر سالار عمران خان گویا ہوا: میں مراد سے متفق ہوں، دوسری جانب سے آواز آئی، خان صاحب پریشر بہت ہے، وہ سنگین اقدام اٹھاسکتے ہیں۔ آرٹیکل چھ لگ جائے گا۔
اس کے بعد خان صاحب نے گہری سانس لے کر کہا ٹھیک، اگر آپ سب کا یہی فیصلہ ہے، میں تلملا کر کچھ کہنا چاہا۔ میرے بولنے سے پہلے ہی خان صاحب نے میری طرف دیکھ کر کہا، تم دیکھ نہیں رہے مراد، میں اکیلا ہوں۔
