روشن بلوچستان مہم: 2 لاکھ 61 ہزار بچوں کا داخلہ ہدف، 13 ہزار نئے اساتذہ اور 4 ہزار اسکولوں کی بحالی، اسپیشل سیکرٹری تعلیم عبدالسلام اچکزئی کی اہم پریس کانفرنس

کوئٹہ (ڈیلی قدرت آن لائن) اسپیشل سیکرٹری تعلیم عبدالسلام خان اچکزئی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے معیاری تعلیم کے فروغ کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر نئے تعلیمی سال کے موقع پر 2 لاکھ 61 ہزار 12 سے زائد بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اس کے لئے تمام متعلقہ حکام اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور ضلعی سطح پر قائم کی گئی کمیٹیوں اور معاشرے کے تمام طبقات کے تعاون سے بچوں کو سکولوں میں لائیں گے تاکہ انہیں بہتر ماحول فراہم کیا جائے؛ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ڈائریکٹر سکولز اختر کھیتران، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نصیر علی شاہ، نقیب اللہ خلجی، منیر نوتیزئی، فاطمہ منور سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا؛ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال محکمہ تعلیم میں نئے تعلیمی سال کے دوران 2 لاکھ 10 ہزار بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقرر کیا تھا ہم نے بہتر حکمت عملی کے تحت اس ہدف کو عبور کرتے ہوئے 2 لاکھ 30 ہزار سے بچوں کو سکولوں میں داخل کیا اور اس بار بھی جو ہدف مقرر کیا گیا ہے اس سے زائد بچوں کو سکولوں میں داخل کریں گے؛ اس مہم کے دوران 1 لاکھ 10 ہزار 711 بچیاں اور 1 لاکھ 50 ہزار 300 لڑکوں کو سکولوں میں داخل کیا جائے گا اور تمام اضلاع کے لیے ہدف مقرر کئے گئے ہیں؛ انہوں نے بتایا کہ اس آگاہی مہم کے دوران تحصیل و ضلعی سطح پر سیمینار، واک، ریلیاں، میٹنگز کے علاوہ کلسٹر سطح کی میٹنگ بھی کی جائے گی؛ انہوں نے بتایا کہ یہ مہم 16 اپریل تک بھر پور انداز میں جاری رہے گی اس میں یورپی یونین، یونیسیف، گلوبل پارٹنر شپ فار ایجوکیشن تعاون کررہے ہیں اور میڈیا کے ذریعے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے گئے ہیں؛ انہوں نے بتایا کہ سکولوں سے باہر جو بچے ہیں انہیں سکولوں میں لاکر تعلیم کے فروغ کو یقینی بنائیں گے اور اس سال محکمہ تعلیم کی جانب سے “ہر بچہ سکول جائے روشن بلوچستان بنائے” کے سلوگن پر عمل پیرا ہوکر اقدامات اٹھارہے ہیں؛ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تقریباً 4 ہزار غیر فعال سکولوں کو فعال بناکر تعلیمی سرگرمیاں شروع کردی ہیں اور 13 ہزار اساتذہ کو میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معیاری تعلیم کے فروغ کو یقینی بنایا جاسکے اور مزید 300 غیر فعال اداروں کو فعال بنارہے ہیں؛ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ضلعی سطح پر جو کمیٹیاں بنائی ہیں ان کا اختیار اب ڈپٹی کمشنر کو دیا گیا ہے اور جو اساتذہ ڈیوٹیوں سے غیر حاضر ہیں ان کی روزانہ کی بنیاد پر حاضری کو یقینی بناتے ہوئے ڈیوٹی کا پابند بنایا جائے گا اور جو لوگ ڈیوٹی پر نہیں آرہے ان کی روزانہ کی بنیاد پر تنخواہوں میں کٹوتی اور محکمانہ کارروائیاں ان کے خلاف کی جارہی ہیں؛ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھرتی کئے گئے اساتذہ کو میرٹ کی بنیاد پر لیا گیا ہے اور ان کی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں 18 ماہ بعد توسیع دی جائے گی؛ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بچوں کو یونیفارم، کتابیں، کھیلوں کا سامان فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں اس کے علاوہ صوبے بھر میں 3 ہزار سکولوں میں اضافی کمرے بنارہے ہیں اور اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جارہا ہے، تعلیمی اداروں میں انفراسٹکچر کی بہتری کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں؛ داخلہ مہم کے دوران علماء کرام، سیاسی و قبائلی عمائدین اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی خدمات حاصل کی جائیں گی تاکہ اس مہم کے ہدف کو بہتر طور پر پورا کیا جاسکے۔
