سپین میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑا ریلیف، ریذیڈنٹ کارڈ کے لیے پاسپورٹ اور دستاویزات ہفتے میں جاری کرنے کا فیصلہ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی حکومت نے سپین میں مقیم پاکستانیوں کو قانونی حیثیت دلانے کے لیے ہنگامی بنیاد پر اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز سالک حسین کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سپینش ریذیڈنٹ کارڈ کے حصول کے لیے پاکستانیوں کو پاسپورٹ اور دیگر ضروری سفری دستاویزات کی فراہمی ایک ہفتےکے اندر یقینی بنائی جائے گی۔
سپین میں غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کے لیے رجسٹریشن کے آغاز سے قبل تمام متعلقہ کاغذات اور پاسپورٹ ایک ہفتے میں جاری کیے جائیں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے سپین میں پاکستانی سفارت خانے کے پاسپورٹ سیکشن کے لیے فوری طور پر اضافی عملہ فراہم کرنے کی ہدایت کی، جہاں پاسپورٹ کے جلد اجرا کو ترجیح دی گئی ہے وہیں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی مجرم یا مطلوب ملزم کو پاسپورٹ ہرگز جاری نہیں کیا جائے گا۔
نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے کریکٹر سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے عمل کو سہل اور تیز کر دیا گیا ہے تاکہ تارکین وطن کو تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیر اوورسیز پاکستانیز سالک حسین نے بتایا کہ سپین کی اس سکیم سے تقریباً 15 ہزار پاکستانی مستفید ہوں گے، انہوں نے سمندر پار پاکستانیوں کی معاونت پر وزارت داخلہ کے تعاون کو سراہا اور شکریہ ادا کیا۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹریز، ڈی جی ایف آئی اے اور نادرا حکام نےبھی شرکت کی۔ سپین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر ظہور احمد اور قونصل جنرل بارسلونا محمد علی وزیر نے بذریعہ زوم بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ10 ہزار افراد کو اتھارٹی لیٹرز جاری کیے جا چکے ہیں،تمام ادارے دستاویزات کی بروقت فراہمی کے لیے مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کریکٹر سرٹیفکیٹ اور پاسپورٹ کے اجرا کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

WhatsApp
Get Alert