امریکا ایران کشیدگی: پاکستان، ترکیہ اور مصر کی ثالثی کی بڑی کوشش، ٹرمپ کی ایرانی قیادت کو سخت دھمکی
ایٹمی پروگرام کا خاتمہ یا فوجی اڈوں کی واپسی؟ فریقین کی کڑی شرائط نے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا، مصر مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار، سفارتی پیغامات کا تبادلہ

کراچی(قدرت روزنامہ) عالمی سیاست میں اس وقت بڑی ہلچل مچی ہوئی ہے جب پاکستان، ترکیہ اور مصر نے مل کر امریکا اور ایران کو براہِ راست مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ مصری وزیر خارجہ کے مطابق تینوں ممالک اس وقت ایک جامع سفارتی مشن پر کام کر رہے ہیں تاکہ خطے کو کسی بڑی جنگی تباہی سے بچایا جا سکے۔
مصری وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ بیان میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اہم پیغامات کا تبادلہ کر دیا گیا ہے اور مصر ان دونوں حریف ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ بعض معاملات پر کوتاہیاں سامنے آئی ہیں، لیکن پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
ٹرمپ کا سخت لہجہ اور امریکی تجاویز
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے انتہائی سخت الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ “ایرانی قیادت ڈیل کا بولے تو اپنے لوگوں کے ہاتھوں، اور انکار کرے تو ہمارے ہاتھوں مرے گی۔” امریکا نے ایران کے سامنے ایک کڑی تجویز رکھی ہے جس میں جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ، افزودہ مواد عالمی ایجنسی کے حوالے کرنا، بیلسٹک میزائل پروگرام کا خاتمہ اور خطے میں اتحادی گروپوں کی حمایت روکنا شامل ہے۔ ان شرائط کے بدلے امریکا نے پابندیوں میں نرمی کی پیشکش کی ہے۔
ایران کا جواب: امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ
ایران نے امریکی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سخت شرائط پیش کر دی ہیں۔ تہران کا مطالبہ ہے کہ خلیج سے امریکی فوجی اڈوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے، تمام پابندیاں اٹھائی جائیں، جنگی نقصانات کا ازالہ ہو اور مستقبل میں کسی بھی حملے کے خلاف ضمانت دی جائے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنا میزائل پروگرام کسی صورت ختم نہیں کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ پاکستان، ترکیہ اور مصر کی ثالثی ایک مثبت قدم ہے، تاہم دونوں ممالک کی شرائط میں موجود وسیع خلیج اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد کے باعث فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کا امکان کم نظر آتا ہے۔ اس سے قبل سوئٹزرلینڈ اور عمان میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات بھی کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔
