پاکستان میں امریکہ ایران مذاکرات پر قیاس آرائیوں کو سرکاری موقف نہ سمجھا جائے .وائٹ ہاﺅس


واشنگٹن (قدرت روزنامہ)وائٹ ہاﺅس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 15 نکاتی منصوبہ قیاس آرائی پر مبنی ہے پاکستان میں امریکہ ایران مذاکرات پر قیاس آرائیوں کو سرکاری موقف نہ سمجھا جائے وائٹ ہاﺅس میں بریفنگ کے دوران کیرولین لیوٹ نے کہاکہ امریکہ ایران میں اپنے بنیادی اہداف کے حصول کے بہت قریب ہے وائٹ ہاﺅس میں پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بریفنگ میں ایران کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی لیوٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ اب بھی مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت میں مصروف ہیں حالانکہ تہران نے امریکی امن منصوبہ مسترد کر دیا ہے.
امریکہ میں بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتوں پر عوامی شکایات کے جواب میں لیوٹ نے کہا کہ ٹرمپ جنگ کے دوران قیمتیں جتنا ممکن ہو کم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ایران میں امریکی زمینی فوج کے امکان پر لیوٹ نے کوئی جواب دینے سے انکار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائی کے لیے کانگریس کی باضابطہ منظوری ضروری نہیں. جنگ کے اختتام سے متعلق سوالات پر لیوٹ نے کہا کہ آپریشن شیڈول سے آگے ہے اور انتظامیہ اسے بہت کامیاب فوجی کارروائی قرار دیتی ہے لبنان میں امریکا کی اسرائیلی کارروائی کی حمایت کے حوالے سے سوال کے جواب میں کیرولین لیوٹ نے کہا کہ وہ امریکی حمایت پر تبصرہ نہیں کر سکتیں لیکن صدر کو بے گھر ہونے والوں کی صورتحال پریقیناً تشویش ہے اسی لیے وہ ایران اور اس کے اتحادیوں جیسے حزب اللہ کے خطرے کو ختم کرنا چاہتے ہیں.
لیوٹ سے ریپبلکن سپیکر مائیک جانسن کے بیان کہ ایران میں جنگ اختتامی مرحلے میں ہے اور زمینی فوجیں بجھوانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں وائٹ ہاﺅس کی پریس سیکرٹری نے کہا کہ امریکہ اپنے اہداف تیزی سے‘ حاصل کر رہا ہے لیکن صدر ٹرمپ ہمیشہ تمام آپشنز کھلے رکھتے ہیں ان کے مطابق یہ پینٹاگون کا کام ہے کہ وہ کمانڈر اِن چیف کو تمام آپشنز فراہم کرے انہوں نے اس پر مزید تفصیل دینے سے گریز کیا.
امریکی اتحادیوں کے جنگ میں شامل نہ ہونے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وہ اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکان کے بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ جب تک وائٹ ہاﺅس کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان نہ ہو، کسی بھی قیاس آرائی کو سرکاری موقف نہ سمجھا جائے کیرولین لیوٹ سے پوچھا گیا کہ کیا ایران میں جاری امریکی جنگ اس وقت تک ختم ہوتی نظر آئے گی جب صدر ٹرمپ 14 اور 15 مئی کو بیجنگ میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے؟لیوٹ نے جواب دیا کہ چونکہ آپریشن کی مدت کا اندازہ چار سے چھ ہفتے لگایا گیا تھا اس لیے آپ خود حساب لگا سکتے ہیںکہ اس وقت جنگ کس مرحلے پر ہوگی یہ ملاقات اب دوبارہ شیڈول کی گئی ہے کیرولین لیوٹ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے ایران نے ایک مجوزہ منصوبہ مسترد کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میںلیوٹ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 15 نکاتی منصوبہ قیاس آرائی پر مبنی ہے.
انہوں نے کہا کہ وہ جاری مذاکرات کی تفصیلی باریکیوں میں نہیں جائیں گی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے زمینی فوج بھیجنے اور جنگ جاری رکھنے کی صورت میں صدر ٹرمپ کے کانگریس سے باضابطہ اجازت لینے کے بارے میں سوال کے جواب میں کیرولین لیوٹ نے جواب دیا کہ اس وقت ایسی منظوری کی ضرورت نہیں کیونکہ امریکہ اس وقت بڑی جنگی کارروائیوں میں مصروف ہے.
انہوں نے کہا کہ صدر اور محکمہ دفاع نے اندازہ لگایا تھا کہ یہ آپریشن تقریباً چار سے چھ ہفتے لے گا اور ابھی جنگ کا 25واں دن ہے لیوٹ کے مطابق صدر نے جنگ سے قبل کانگریس کے چند اہم خارجہ پالیسی راہنماﺅں کو ”بطور احترام“ آگاہ کیا تھا اور انتظامیہ کے نمائندے قانون سازوں کو بریفنگ بھی دیتے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ہمیشہ قانون کے مطابق کام کرے گی امریکی آئین کے مطابق جنگ کا باضابطہ اعلان کانگریس کرتی ہے تاہم حالیہ ہفتوں میں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں نے وہ قراردادیں منظور کرنے سے انکار کر دیا جو صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرتیں.
وائٹ ہاﺅس کی پریس سیکرٹری نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے کی دھمکی کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے لیوٹ نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ گذشتہ تین دن سے ایران کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز گفتگو میں مصروف ہیں انہوں نے کہا کہ صدر کا مقصد ہمیشہ امن ہوتا ہے لیکن خبردار کیا کہ اگر ایران نے موجودہ صورتحال کو قبول نہ کیا تو ٹرمپ پہلے سے کہیں زیادہ سخت ضرب لگائیں گے کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ دھمکی نہیں دیتے اور وہ جہنم برپا کرنے کے لیے تیار ہیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی آخری غلطی نے اسے اس کی قیادت، بحریہ اور فضائی دفاعی نظام سے محروم کر دیا تاہم انہوں نے اس” غلطی “کا ذکرنہیں کیا.
وائٹ ہاﺅس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری فوجی کارروائیاں مزید کامیاب ہو رہی ہیںاور امریکہ ایران کی تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ ان تمام عوامل کی وجہ سے امریکہ آپریشن ایپک فیوری کے بنیادی مقاصد کے حصول کے بہت قریب ہے اور جنگ کے 25 دن بعد امریکہ شیڈول سے آگے ہے لیوٹ کے مطابق ایران کی جوہری خواہشات ’کچل دی گئی ہیں اور ایرانی قیادت اب اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ”ایگزٹ ریمپ‘ ‘تلاش کر رہی ہے .
قبل ازیں بریفنگ کے آغازپر انہوں نے صدر ٹرمپ کے دعوﺅں کو دہراتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کی حملہ آور اور دفاعی صلاحیتوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ کہ آپریشن ایپک فیوری بلاشبہ ایک شاندار فوجی کامیابی ثابت ہوا ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اب تک 9,000 اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے اور یہ کہ امریکہ ایران کی بحریہ بشمول اس کے بارودی سرنگ بچھانے والے جہازوں کو ”صفحہ ہستی“ سے مٹا رہا ہے لیوٹ کے مطابق تین ہفتوں کے عرصے میں کسی بحریہ کی اتنی بڑی تباہی دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار دیکھی گئی ہے دوسری جانب اس بات کے کسی آزادذرائع سے کوئی ثبوت نہیں ملے کہ ایران نے ہرمزکے علاقے میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں تاہم تہران کی جانب سے دھمکی سامنے آئے تھی کہ وہ امریکا کی جانب سے کسی زمینی آپریشن کی صورت میں پورے خلیج فارس کو بارودی سرنگوں سے بھردے گا.

WhatsApp
Get Alert