طواف کا اہم مقام رکن یمانی،سنت نبی ﷺ سے جڑی فضیلت جان کر ایمان تازہ ہو جائے گا

کعبہ(قدرت روزنامہ)خانۂ کعبہ کے چاروں کونوں میں سے ایک رکنِ یمانی کو خاص اہمیت حاصل ہے، جو یمن کی سمت واقع ہے، طواف کرنے والا ہر شخص اس کونے سے گزرتے ہوئے حجرِ اسود کی طرف بڑھتا ہے، جس کے باعث اس کی روحانی حیثیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔
اسلامی روایات کے مطابق نبی کریم ﷺ طواف کے دوران حجرِ اسود کے ساتھ ساتھ رکنِ یمانی کو بھی اپنے دستِ مبارک سے چھوا کرتے تھے، علما کے مطابق اگر کسی شخص کو رکنِ یمانی تک آسانی سے پہنچنے کا موقع ملے تو اسے ہاتھ سے چھونا سنت ہے، اگر ہجوم زیادہ ہو تو زائرین کو کوشش ترک کر کے معمول کے مطابق طواف جاری رکھنا چاہیے۔
رکنِ یمانی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی قائم کردہ کعبہ کی اصل بنیادوں پر واقع ہے، جس سے اس کی تاریخی اور روحانی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان کا حصہ بھی نہایت بابرکت سمجھا جاتا ہے، جہاں نبی کریم ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
“ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار”
