آزاد جموں و کشمیر میں شفاف انتخابات کیلئے آئینی اصلاحات ناگزیر، مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے تک الیکشن قبول نہیں، ڈڈیال اجلاس کا اعلامیہ جاری


مظفرآباد/ڈڈیال(قدرت روزنامہ)جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال میں ایک نیا پینڈورا بکس کھول دیا ہے۔ ڈڈیال میں 30 اور 31 مارچ کو منعقدہ دو روزہ اہم اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کمیٹی نے حکومت کو اپنے مطالبات تسلیم کرنے کے لیے 31 مئی کی حتمی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ کمیٹی کا سب سے بڑا مطالبہ آئندہ عام انتخابات سے قبل مہاجرین کی نشستوں کا مکمل خاتمہ ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر میں شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کی مکمل حامی ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے فوری آئینی اور انتخابی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ کمیٹی کا موقف ہے کہ جب تک انتخابی نظام میں موجود بنیادی خامیاں دور نہیں کی جاتیں اور مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے دیرینہ مطالبہ پورا نہیں ہوتا، تب تک انتخابات کے نتائج عوامی امنگوں کے مطابق نہیں ہو سکتے۔
ڈڈیال اجلاس کے اس اعلامیے کے بعد ریاست میں آئندہ عام انتخابات کے بروقت انعقاد پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت 31 مئی تک ان مطالبات پر کوئی ٹھوس پیش رفت کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کا ایک نیا اور سخت مرحلہ شروع ہو سکتا ہے، جس سے انتخابی عمل بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

WhatsApp
Get Alert