بلوچستان اسمبلی اجلاس: پولیس حوالات میں شہری کی ہلاکت پر بحث، وزیراعلیٰ کا مجرم کے لیے فاتحہ خوانی سے انکار، مائنز اینڈ سیفٹی بل سمیت دو مسودے کمیٹی کے سپرد


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل کو اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں 45 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، جس کے ایجنڈے میں قانون سازی اور وقفہ سوالات شامل تھے۔ اجلاس کے آغاز میں ایوان میں مختلف مرحومین، جن میں شاہدہ روف کے سسر، نعیم بازئی کے والد اور نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی شامل ہیں، کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ وقفہ سوالات کے دوران پولیس حوالات میں ایک شہری کی ہلاکت کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس پر آغا عمر احمد عمرزئی نے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ واقعے کی انکوائری جاری ہے اور متعلقہ شخص کا کرمنل ریکارڈ بھی موجود ہے، لہٰذا ایوان میں کسی کرمنل کے لیے فاتحہ خوانی نہیں ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے ایران سے ملحقہ اضلاع کے نوجوانوں کو اسمگلنگ سے ہٹا کر قانونی تجارت کی طرف لانے کے لیے بی آر ایس پی کے تحت تربیتی پروگراموں کا بھی ذکر کیا۔ قانون سازی کے حوالے سے صوبائی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے بلوچستان مائنز اینڈ سیفٹی مسودہ قانون 2026 پیش کیا، جسے ایوان نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ اسی طرح بلوچستان وٹنس پروٹیکشن ترمیمی مسودہ قانون 2026 بھی پیش کیا گیا، جسے مزید غور کے لیے کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔ اجلاس میں حالیہ بارشوں سے ہونے والی تباہی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، رکن اسمبلی اسد بلوچ نے متاثرہ اضلاع کے زمینداروں کے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا جبکہ زمرک خان اچکزئی نے متاثرہ علاقوں کا فوری سروے کرانے پر زور دیا۔ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پبلک سروس کمیشن کا بل جلد ایوان میں لانے کا مطالبہ کیا تاکہ نوجوانوں کا وقت ضائع نہ ہو، اور نوشکی میں سیکیورٹی خدشات کے باعث بند بینکوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ رکن اسمبلی اصغر ترین نے پشین میں امن و امان اور پانی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈیمز کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس کے اختتام پر اسپیکر نے کارروائی 10 اپریل سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دی۔

WhatsApp
Get Alert