میزائل پروگرام پر مذاکرات نہیں کیے جا سکتے، ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا: ایران

تهران(قدرت روزنامہ)ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے فیس وصول کی جائے گی، ہمارے پاس افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر مذاکرات نہیں کیے جا سکتے، ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ 60 دنوں میں دوسرے فریق کو خطے میں فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے، نہ ہی دوسرے فریق کو نئی پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔
اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں، ایران کو آج سے آئندہ 60 دنوں تک اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا پابند ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی کے سلسلے میں رکاوٹیں دور کرے، ایران کے میزائلوں کے بارے میں کوئی دوسرا گفتگو کرے یہ بالکل پسند نہیں، ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی فریق کے ساتھ بات چیت نہیں کی جائے گی۔
