میرے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جارہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ میرے نمائندے اسلام آباد جارہے ہیں، وہ کل شام مذاکرات کے لیے وہاں ہوں موجود ہوں گے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہاکہ ایران نے کل آبنائے ہرمز میں گولیاں چلانے کا فیصلہ کیاجوسیز فائر کی خلاف ورزی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمزبند کرنےکا اعلان کیا جو عجیب بات ہے کیونکہ ہماری ناکہ بندی کی وجہ سے ہرمز پہلے ہی بند ہے۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران کو ایک اچھے معاہدے کی پیشکش کررہے ہیں، میں امید کرتا ہوں کہ ایران یہ معاہدہ کرلے گا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا ایران میں ہر پاور پلانٹ اور ہر پُل کو تباہ کردے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز بند کرکے ایران ہماری مدد کررہاہے لیکن اسے اس کا علم نہیں، آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے ایران کا روزانہ 500 ملین ڈالرکانقصان ہورہا ہے جبکہ امریکا کا کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔
قبل ازیں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا اشارہ دیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، امریکا اور ایران کے مذاکرات کار ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں گے، جہاں ایک حتمی معاہدے کو شکل دی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرے گا بلکہ اسرائیل کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
امریکی صدر نے لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی کے حصے کے طور پر فوری بند ہوں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنا ہوں گی۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل عمارتوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا اور امریکا اس کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے تمام فریقین کو سنجیدگی اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
