پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام “ہر بچہ سکول میں، ہر استاد کلاس میں اور ہر گاؤں میں سکول چاہیے” کے عنوان کے تحت سکول داخلہ آگاہی مہم: مفت تعلیم اور اساتذہ کی حاضری کے حکومتی دعوے کھوکھلے، عیوضی نظام اور کلسٹر بجٹ میں عدم شفافیت محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

کوئٹہ، ژوب (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام “ہر بچہ سکول میں، ہر استاد کلاس میں اور ہر گاؤں میں سکول چاہیے” کے عنوان کے تحت سکول داخلہ آگاہی مہم کے سلسلے میں کوئٹہ اور ژوب میں شاندار ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ کوئٹہ میں منعقدہ ریلی پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زونل سیکرٹری وارث افغان کی صدارت میں ہوئی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت ثناءاللہ نے حاصل کی، جبکہ نظامت کے فرائض صوبائی اطلاعات سیکرٹری وحدت افغان اور رابطہ سیکرٹری حلیم لویال نے انجام دیے۔ ریلی سے وارث افغان، زوہیب کبزی، زرمینہ خپلواک، شفیق دلشان، شاہ زیب مریانی، میئن بڑیچ، ہیلہ افغان، بی بی زہرا کاسی اور بی بی شبنم ترکئی نے خطاب کیا۔
دوسری جانب ژوب میں اسکول داخلہ مہم کے سلسلے میں ریلی ضلع سیکرٹری امیرالبشر کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس سے صوبائی مرستیال سیکرٹری ایمل څاروان، ضلع سینئر معاون سیکرٹری عرفان اللہ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے علاقائی سیکرٹری ڈاکٹر نعمت اللہ، شفیع اللہ اور مولوی امین الحق نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطابات میں والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کو سکولوں میں داخل کروائیں، کیونکہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25-اے کے تحت میٹرک تک مفت تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے صوبے میں تعلیمی شعبہ شدید مسائل کا شکار ہے جس کے حل کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام سرکاری سکولوں میں مفت کتابوں کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے، اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور عیوضی ٹیچر کے نظام کا خاتمہ کیا جائے۔ کوئٹہ سمیت تمام علاقوں میں اساتذہ اور طلباء کا متوازن تناسب قائم کیا جائے تاکہ تعلیمی معیار بہتر ہو۔ مزید مطالبات میں تعلیمی اداروں میں صرف عمارتوں کے بجائے تعلیمی معیار اور طلباء کے سیکھنے کے نتائج پر توجہ دینا، کلسٹر بجٹ میں شفافیت لانا، اور ایک جامع تعلیمی پالیسی کا فوری اجراء شامل ہیں۔
تنظیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیمی اختیارات کو ضلعی سطح تک منتقل کیا جائے تاکہ مسائل کا بروقت حل ممکن ہو سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے لیے واضح قواعد و ضوابط بنائے جائیں، غیر ضروری فیسوں کا خاتمہ کیا جائے، اور تمام اداروں میں پشتو کو بطور لازمی مضمون شامل کیا جائے۔ ساتھ ہی تعلیمی اداروں کی عسکریت کاری کے خاتمے اور پُرامن تعلیمی ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیم کے شعبے میں موجود مالی، انتظامی اور قانون سازی سے متعلق تمام مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ نظامِ تعلیم کو مؤثر اور مضبوط بنایا جا سکے۔ آخر میں پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے والدین، اساتذہ، طلباء اور باشعور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مہم کا حصہ بنیں اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
