کوئٹہ میں امن و امان کی مخدوش صورتحال اور چوری کی بڑھتی وارداتیں،شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں پولیس اورحکومت کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی ہے ، پشتونخواملی عوامی پارٹی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ شہر میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے جس کے باعث شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ کے علاقہ غبرگ میں دہشتگردانہ واقعہ کے بعد پولیس گشت اور ناکہ بندیوں کے مؤثر نظام کے نہ ہونے کے باعث چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر گھروں سے انورٹرز اور دیگر قیمتی سامان کی چوری عام ہو چکی ہے۔ گزشتہ دنوں غبرگ کلی غبیزئی سے تعلق رکھنے والے شاہ ولی خان بازئی سے کلی عبدل زئی چوکی کے مقام پر ڈاکوئوں نے نہ صرف موٹر سائیکل چھینا بلکہ ان پر اندھا دھند فائرنگ کی جس سے وہ شدید زخمی ہوئے اورہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اسی طرح کلی ظفر بازئی رندوزئی سے گھروں سے انورٹرز چوری ہوئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ کئی مقامات پر پولیس تھانوں میں مطلوبہ عملہ تک موجود نہیں، جس کی وجہ سے عوام کو بروقت مدد فراہم نہیں کی جا رہی۔ حالیہ واقعے میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک شہری کے زخمی ہونے نے صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔موجودہ حالات میں شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور فوری طور پر مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔بیان میں آئی جی پولیس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پولیس گشت میں اضافہ اور تھانوں میں عملے کی حاضری کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے اور جرائم کے واقعات میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
دوسری جانب پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ شہر میں کاروباری سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے دکانداروں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیںاور متعدد دکانداروں کو گرفتار کر کے جیل بھیجنے کا عمل قابل افسوس اور قابل مذمت ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دنوں کوئٹہ شہر کے مسجد روڈ ودیگر بازار کے علاقوں سے دکانداروں کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گرفتار کرکے کوئٹہ جیل منتقل کیا گیا جہاں انہیں نشے کے عادی افراد کے بیرک میں رکھا گیا اور ان کی تشدد سے ایک دکاندار زخمی بھی ہوا ۔ جیل کے اندر ایک بیرک سے دوسرے بیرک منتقلی میں بھی رشوت طلب کی جاتی رہی ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس تھانہ بھی مبینہ طور پر رشوت ستانی کا مرکز بن چکا ہے، جس سے عوام کا اعتماد شدید متاثر ہوا ہے۔ ایسے حالات میں دکاندار، تاجر اور مزدور طبقہ شدید غم و غصے میں مبتلا ہے۔ لاک ڈاؤن نے پہلے ہی معاشی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے، اور موجودہ اقدامات نے ان مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔48گھنٹوں کے بعد دکانداروں کی رہائی کا عمل انتہائی شرمناک ہے اور ضلعی انتظامیہ کو اپنے ان عوام دشمن ، تاجر دشمن اقدامات کو فوری ترک کرنے ہوں گے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیا جائے اور ناجائز گرفتاریوں اور بدسلوکی کا خاتمہ کیا جائے اور کاروباری طبقے کومختلف حیلوں وبہانوں سے تنگ کرنے ، تجاوزات کے نام پر کاروبار خراب کرنے کی بجائے انہیں ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ شہری سکون اور اعتماد کے ساتھ اپنی روزمرہ زندگی جاری رکھ سکیں۔

WhatsApp
Get Alert