بلوچستان ایک ہی دن میں فائرنگ، ٹریفک حادثات اور دھماکے میں لیڈی کانسٹیبل اور بچے سمیت 14 افراد جاں بحق، درجن سے زائد زخمی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) خضدار، صحبت پور، دکی، کچھی، پشین، نصیر آباد، تمبو اور ڈیرہ بگٹی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فائرنگ، ٹریفک حادثات، بارودی سرنگ کے دھماکے اور ڈوبنے کے مختلف واقعات میں لیڈی کانسٹیبل اور کمسن بچوں سمیت 14 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق، خضدار کے علاقے کھنڈوزئی میں ڈکیتی میں ملوث ملزمان کا تعاقب کرنے والی پولیس پارٹی پر شرپسندوں نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک لیڈی کانسٹیبل سمیت دو پولیس اہلکار جاں بحق اور دو شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر فرار ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ اسی طرح پشین میں واپڈا آفس کے قریب نامعلوم افراد نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار دو افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
دکی میں بھی تشدد کا ایک واقعہ پیش آیا جہاں سردار قیصر ترین اڈہ میں مسلح افراد نے دکان پر موجود ریڈی ایٹر مکینک محمد عدنان مستوئی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا، مقتول کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا۔ ادھر صحبت پور میں تھانہ عادل پور کی حدود میں کار سوار نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شہزادہ گاجانی نامی شخص جاں بحق ہو گیا۔ مقتول کے ورثاء نے الزام عائد کیا ہے کہ فائرنگ کرنے والے مسلح افراد پولیس کی وردی میں ملبوس تھے۔ پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
دوسری جانب نصیر آباد اور ڈیرہ مراد جمالی کے علاقوں میں دو مختلف واقعات میں ایک خاتون سمیت دو افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ تھانہ منگولی کی حدود گوٹھ سید اختر شاہ میں شوہر محبوب علی کٹوہر مگسی نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر فائرنگ کر کے اپنی 23 سالہ بیوی مختیارہ بی بی کو قتل کیا اور فرار ہو گیا۔ جبکہ صدر تھانہ ڈیرہ مراد جمالی کی حدود میں گوٹھ جان محمد جمالی میں رشتے کے تنازع پر مسلح افراد کی فائرنگ سے احمد جاگیرانی موقع پر جاں بحق ہو گیا، پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
صوبے میں بدترین ٹریفک حادثات اور دیگر سانحات نے بھی کئی گھرانے اجاڑ دیے۔ کچھی کے علاقے ڈھاڈر بائی پاس پر قومی شاہراہ این 65 پر تیز رفتار مزدا اور پک اپ کے درمیان خوفناک تصادم ہوا، جس کی زد میں قریب سے گزرنے والے موٹر سائیکل سوار بھی آ گئے۔ اس دردناک حادثے میں 9 سالہ بچے محمد عثمان، اس کے والد ہمت خان اور عبدالمجید سمیت تین افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ دو افراد شدید زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی کے نواحی علاقے لنجو میں زمین میں دبی بارودی سرنگ سے موٹر سائیکل ٹکرانے کے باعث زوردار دھماکہ ہوا، جس میں محب علی چاکرانی بگٹی موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔
علاوہ ازیں دکی کی مقامی کوئلہ کان میں بجلی کی تار سے ہاتھ ٹکرانے کے باعث کرنٹ لگنے سے ایک افغان مزدور منصور ہوتک جان کی بازی ہار گیا، جبکہ تمبو تھانہ منجھو شوری کی حدود میں روپا شاخ کینال میں ڈوب کر ایک چار سالہ بچی انتقال کر گئی۔ تمام واقعات کی لاشوں کو قانونی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے اور متعلقہ تھانوں کی پولیس نے مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
