نامناسب دوستیاں اور نازیبا حرکتیں، رئیلٹی شوز نوجوانوں کو کیسے برباد کر رہے ہیں؟ خوفناک حقائق

لاہور(قدرت روزنامہ)پاکستان اور بھارت سمیت دیگر ممالک میں نوجوان نسل کا فارغ وقت زیادہ تر رئیلٹی ٹی وی شوز دیکھنے، گیمز کھیلنے اور دیگر تفریحی سرگرمیوں میں گزرتا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ نے یہ خوفناک حقیقت بے نقاب کی کہ نامناسب دوستیوں اور نازیبا حرکتوں پر مشتمل رئیلٹی شوز کس طرح نوجوان نسل کو برباد کر رہے ہیں۔
رواں برس سامنے آنے والی ایک رپورٹ نے بھارتی سوشل میڈیا صارفین کو چونکا دیا، جس میں بتایا گیا کہ بھارت میں نوجوان نسل کو ایک خاص فارمیٹ کے شوز کے ذریعے تباہ کیا جارہا ہے اور ٹیمپٹیشن آئی لینڈ، لو اسکول، اسپلٹس ولا اور ایکس آر نیکسٹ جیسے شوز کے نام لیے گئے۔
معروف بھارتی یوٹیوبر نکیتا ٹھاکر نے اپنی تحقیق پر مبنی ویڈیو رپورٹ میں بتایا کہ ٹیمپٹیشن آئی لینڈ جیسے شوز میں کچھ نوجوان جوڑوں کو 2 الگ الگ گھروں میں رکھا جاتا ہے۔ ایک میں لڑکیاں 7 سنگل لڑکوں کے ساتھ، دوسرے میں لڑکے 7 غیر شادی شدہ لڑکیوں کے ساتھ رکھے جاتے ہیں۔
خوفناک طور پر ان شوز کے شریک جوڑوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے اپنے پارٹنر کو دوسرے لڑکوں یا لڑکیوں سے میل جول اور پھر محبت کا رشتہ قائم کرنے کی اجازت دیں۔ لو اسکول جیسے شو میں مسائل کا شکار جوڑوں کو شرکت کی دعوت دے کر تأثر دیا جاتا ہے کہ ان کے باہمی مسائل حل کیے جائیں گے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔
لو اسکول میں جوڑوں کو ساتھ رکھنے کی بجائے اسی فارمیٹ کے تحت دوسرے سنگل شرکا کے ساتھ جوڑا جاتا ہے اور مختلف ٹاسک دئیے جاتے ہیں۔ اسی طرح اسپلٹس ولا اور ایکس آر نیکسٹ جیسے شوز میں بھی کراس جوڑی سازی، باہمی حسد اور تعلقات کی آزمائش کو موضوع بنایا جاتا ہے جو خطرناک رجحان ہے۔
اس رپورٹ سے قطع نظر پاکستان میں بھی غیر محسوس طور پر ایسے ہی شوز کو فروغ دیا جارہا ہے جن میں بگ باس کی طرز پر تماشا اور لو اسکول کی طرز پر لازوال عشق (میزبان: عائشہ عمر) شامل ہیں، حالانکہ پاکستانی معاشرے کو مخلوط ماحول کے حوالے سے اتنا آزاد خیال نہیں سمجھا جاتا۔
خوفناک اعدادوشمار:
یوٹیوبر نکیتا ٹھاکر نے بتایا کہ ٹیمپٹیشن آئی لینڈ کو بھارت میں تقریباً 1کروڑ 35لاکھ افراد دیکھتے ہیں جو او ٹی ٹی پر 5واں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ہے۔ سپلٹس ولا کے 2016 میں 10 کروڑ ناظرین تھے جو بھارت کی 25فیصد نوجوان نسل بنتی ہے اور یہ شو آج بھی مقبول ہے۔
نکیتا ٹھاکر کے مطابق پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارتی نوجوان نسل جسے جین زی کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، اس کے متعلق بھارتی ٹی وی چینل ایم ٹی وی انڈیا نے سروے کیا۔ سروے کے مطابق بھارتی جین زی طویل المدتی محبت پر یقین ہی نہیں رکھتی۔
اس سروے کیلئے بھارت بھر سے 15 سے 25سال کے 50شہروں سے تعلق رکھنے والے 26 ہزار نوجوانوں سے بات چیت کی گئی اور ان کے خیالات کی بنیاد پر حقائق سامنے لائے گئے۔ 50 فیصد شرکاء نے اعتراف کیا کہ اپنا پارٹنر ہونے کے باوجود وہ کسی اور کے ساتھ فلرٹ بھی کرچکے ہیں۔ہر 4 میں سے 1 نے کہا کہ وہ شادی پر یقین نہیں رکھتے۔
