آبنائے ہرمز پر ایران کی مستقل بالادستی کا خوف، خلیجی ممالک اسلام آباد مذاکرات سے پریشان

ایران (قدرت روزنامہ)خلیجی ممالک کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا سب سے بڑا ہدف صرف آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا ہوگا، جبکہ وہ وسیع تر امن جس کی خلیجی ریاستیں خواہش مند ہیں، شاید پسِ پشت ڈال دیا جائے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے دور کے حوالے سے خلیجی ممالک کے حکام اور ماہرین کا خیال ہے کہ اب توجہ ایران کے میزائلوں یا اس کے مسلح گروہوں کے بجائے یورینیم کی افزودگی کی حد اور آبنائے ہرمز پر ایران کے اثر و رسوخ کو سنبھالنے پر مرکوز ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق، خلیجی حکام کا ماننا ہے کہ یہ طریقہ کار ایران کی طاقت کو ختم کرنے کے بجائے اسے مضبوط کر دے گا، جس سے عالمی معیشت کو تو استحکام مل سکتا ہے لیکن خطے کی اپنی سیکیورٹی داؤ پر لگی رہے گی۔
رپورٹ میں خلیجی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ امریکا اور ایران کی سفارت کاری اب اس نکتے پر سمٹ رہی ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام کو پیچھے دھکیلنے کے بجائے صرف افزودگی کی سطح پر بات کی جائے اور خاموشی سے آبنائے ہرمز پر تہران کے قبضے کو قبول کر لیا جائے۔
ایک خلیجی سرکاری ذریعے نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ اب ہرمز ہی اصل ریڈ لائن ہوگی، یہ مسئلہ پہلے کبھی نہیں تھا لیکن اب ہے، کیونکہ اب مذاکرات کے مقاصد ہی بدل چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں آبنائے ہرمز کی بندش کو ایک ایسا قدم سمجھا جاتا تھا جس کی ایران ہمت نہیں کرسکتا تھا، لیکن حالیہ جنگ کے دوران ایران کی دھمکیوں نے اس خاموش معاہدے کو توڑ دیا ہے اور اب سمندری راستے کی بندش مذاکرات میں ایک ٹھوس ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔
روس کی سیکیورٹی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین دمتری میدویدیف نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں اس صورتحال کی کھل کر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان صلح کیسے ہوگی، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ ایران نے اپنے ایٹمی ہتھیار کا تجربہ کر لیا ہے، اس کا نام آبنائے ہرمز ہے جس کی صلاحیت کبھی ختم ہونے والی نہیں۔
یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ہرمز ایک ایسا ہتھیار ہے جس کی بدولت ایران ایٹمی دھماکہ کیے بغیر بھی دنیا پر اپنی شرائط منوا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی اچانک اٹھایا گیا قدم نہیں بلکہ برسوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ میں ایک سینئر ایرانی سیکیورٹی ذریعے کے حوالے سے کہا گیا کہ ایران نے برسوں سے ہرمز کو بند کرنے کے منظر نامے پر کام کیا ہے، آج یہ ایران کا سب سے موثر جغرافیائی ہتھیار ہے جسے دنیا ہم سے نہیں چھین سکتی۔
پاسدارانِ انقلاب کے قریبی ایک دوسرے ذریعے نے اسے میان سے نکلی ہوئی وہ تلوار قرار دیا جسے اب امریکا اور علاقائی طاقتیں نظر انداز نہیں کر سکتیں۔
خلیجی ریاستوں کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے براہِ راست ان کے خطے کو نشانہ بنایا ہے، لیکن مذاکرات صرف ہرمز کے گرد گھوم رہے ہیں کیونکہ اس کا اثر عالمی معیشت پر پڑتا ہے۔
اماراتی پالیسی سینٹر کی صدر ابتسام الکتبی کہتی ہیں کہ جو کچھ آج ہو رہا ہے وہ کوئی تاریخی سمجھوتہ نہیں بلکہ پائیدار تنازع کی ایک سوچی سمجھی انجینئرنگ ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”میزائلوں اور مسلح گروہوں سے کون نقصان اٹھا رہا ہے؟ اسرائیل اور خاص طور پر خلیجی ریاستیں۔ ہمارے لیے ایک اچھا معاہدہ وہ ہوتا جس میں میزائلوں اور ان گروہوں کا مسئلہ حل ہوتا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ انہیں (امریکا کو) ان مسائل کی کوئی پرواہ نہیں۔“
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار کشیدگی کو ختم نہیں کرے گا بلکہ اسے ایک ایسے درجے پر مستحکم کر دے گا جو واشنگٹن اور تہران کے لیے تو قابلِ قبول ہو سکتا ہے لیکن خلیجی ممالک کے لیے غیر یقینی کی صورتحال برقرار رہے گی۔
28 فروری سے جاری ایران امریکا جنگ نے پہلے ہی خلیجی معیشتوں کو متاثر کیا ہے، جس میں انرجی انفراسٹرکچر پر حملے اور انشورنس کے بڑھتے ہوئے اخراجات شامل ہیں۔
سعودی عرب کے گلف ریسرچ سینٹر کے چیئرمین عبدالعزیز صقر کا کہنا ہے کہ ایران کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک مختلف سوچ کی ضرورت ہے، امریکا علاقائی سلامتی کا حصہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خطے کو شامل کیے بغیر یکطرفہ فیصلے کرے۔
متحدہ عرب امارات کے ماہرِ تعلیم عبدالخالق عبداللہ کا ماننا ہے کہ خلیجی ریاستیں اب تک امریکی دفاعی نظام جیسے تھاڈ اور پیٹریاٹ کی وجہ سے محفوظ رہی ہیں، لیکن کسی ایک بیرونی محافظ پر مکمل انحصار کی بھی اپنی حدود ہیں۔
دبئی کے ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر محمد بہارون کے مطابق اس جنگ کا ایک سبق یہ ہے کہ ایک ہی محافظ پر بھروسہ کرنے کی حد ہوتی ہے۔ خلیجی حکام اب یہ دلیل دے رہے ہیں کہ انہیں مذاکرات سے باہر رکھنا اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی اہمیت بین الاقوامی ہے اور اس پر ہونے والا کوئی بھی فیصلہ پوری دنیا پر اثر انداز ہوگا۔
