فیلڈ مارشل عاصم منیر کی غیر معمولی سفارتی مہارت، امریکا ایران مذاکرات بچانے کی بھرپور کوششیں، فنانشل ٹائمز کا اعتراف


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک فعال اور غیر روایتی کردار کے ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بہتری لانے اور امن مذاکرات کو بچانے کی کوششوں میں نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں، تاہم گہرے اختلافات اور عالمی سیاست کی پیچیدگیاں ان کے لیے بڑا امتحان بنی ہوئی ہیں۔
فنانشنل ٹائمز میں شائع رپورٹ کے مطابق 2 مرتبہ انٹیلیجنس اداروں کی قیادت کرنے والے پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کا شکار مذاکرات کو بحال کرنے کے لیے ایک غیر معمولی اور نمایاں حکمت عملی اختیار کی ہے۔ رواں ماہ دونوں حریف ممالک کے درمیان کئی دہائیوں کی اہم ترین ملاقات کی صدارت کرنے کے بعد وہ چند روز تک تہران میں مقیم رہے جہاں انہوں نے ایرانی سیاسی و عسکری قیادت سمیت پاسدارانِ انقلاب سے بھی رابطے کیے۔

اس دوران وہ مسلسل وائٹ ہاؤس سے بھی رابطے میں رہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان حالیہ عرصے میں تعلقات میں بہتری مختلف معاشی اور سفارتی معاملات کے باعث ہوئی، جس میں معدنیات، کرپٹو کرنسی اور دیگر شعبے شامل ہیں، جبکہ پاکستان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے نے بھی تعلقات کو تقویت دی۔

اگرچہ امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کا کردار ماضی میں نمایاں نہیں رہا، لیکن اس بار پاکستان ایک غیر متوقع مگر اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم اس ہفتے مذاکرات کی بحالی کی کوششیں تعطل کا شکار ہونے کے بعد عاصم منیر کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ ماضی میں یورپی ممالک، قطر اور عمان بھی اس تنازع کے حل کی کوشش کرتے رہے مگر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
پاکستانی حکمت عملی سابقہ طریقوں سے مختلف ہے۔ 2015 کے جوہری معاہدے کے لیے جنیوا اور ویانا میں طویل اور پیچیدہ مذاکرات ہوئے تھے، لیکن عاصم منیر نے زیادہ براہ راست اور ہمہ جہتی انداز اپنایا ہے۔ وہ نہ صرف ایران کی عسکری قیادت سے رابطے میں ہیں بلکہ امریکی صدرٹرمپ سے بھی ذاتی سطح پر تعلق رکھتے ہیں، جنہوں نے حال ہی میں انہیں ’شاندار‘ قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق عاصم منیر ایران کے طاقت کے مختلف مراکز کو سمجھتے ہیں اور ایک جامع حکمت عملی کے تحت سفارت کاری کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی فریق کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ تاہم منگل کے روز اس وقت پیش رفت رک گئی جب ایران نے اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کس حد تک گہرا ہے۔ ایک طرف صدر ٹرمپ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی ختم کرنے سے انکار کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے پر آمادہ نہیں۔
اگرچہ امریکی صدر نے شہباز شریف اور عاصم منیر کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کی، لیکن جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم جیسے بنیادی معاملات پر پیش رفت نہ ہو سکی۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اختلافات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر عاصم منیر کو ایک غیر متوقع امریکی قیادت اور ایران کے سخت مؤقف کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ پہل کون کرے گا۔
ماضی میں بھی ثالثی کی متعدد کوششیں ناکام رہیں، خصوصاً جب صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں 2015 کا جوہری معاہدہ ختم کر دیا تھا۔ بعد ازاں یورپی ممالک اور دیگر فریقین بھی معاہدہ بحال نہ کر سکے۔

حالیہ کشیدگی کے بعد جب خلیجی ممالک دباؤ کا شکار ہوئے تو پاکستان نے سفارتی کردار ادا کرنا شروع کیا۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے، باوجود اس کے کہ 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں بھی ہوئیں۔
عاصم منیر اپنی انٹیلیجنس پس منظر کی وجہ سے ایران کے عسکری ڈھانچے سے بخوبی واقف ہیں اور انہوں نے تہران میں اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقاتیں بھی کیں۔ دوسری جانب ان کے امریکی قیادت سے روابط بھی بتدریج مضبوط ہوئے ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق پاکستان کو ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر بھی چیلنجز درپیش ہیں، کیونکہ اس کے امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ ایران میں بھی بعض حلقے پاکستان کے کردار پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔
ادھر ایران کو خدشہ ہے کہ امریکا مذاکرات کو محض ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جبکہ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں کرے گی۔

اسلام آباد میں ممکنہ معاہدے کے لیے تیاریاں بھی کی گئیں، شہر میں سیکیورٹی سخت کی گئی اور ’اسلام آباد امن معاہدہ‘ کے حوالے سے منصوبہ بندی کی گئی، مگر مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔

WhatsApp
Get Alert