کوئٹہ کی سڑکوں پر منشیات، شراب اور فحاشی کا راج، شہریوں کا فٹ پاتھ سے گزرنا محال، پولیس خاموش تماشائی
عدالت روڈ، سرکلر روڈ اور جناح روڈ پر سرعام مکروہ دھندہ جاری، ایگل اسکواڈ اور پولیس پر مبینہ سرپرستی کے الزامات، وزیر اعلیٰ سے فوری کارروائی کا مطالبہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت)بلوچستان دارالحکومت کوئٹہ میں منشیات،شراب اور فحاشی سے نوجوان نسل بری طرح متاثر ہونے لگی عدالت روڈ، سرکلر روڈ،جناح روڈپر عام منشیات اورشراب کی فروخت اوراستعمال سے شہریوں کافٹ پاتھ سے گزرنا مشکل ہوگا،گشت پر مامورایگل اسکواڈ اور پولیس اہلکارمنشیات اور شراب فروشوں اور فحاشی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی بجائے انکی مبینہ طور پر سرپرستی کرنے لگی ہے ۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے جناح روڈ، سرکلر روڈ ،جناح روڈ پر سرعام منشیات اورشراب فروخت ہونے لگی جس کی وجہ سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر منشیات استعمال کرتی نظر آتی ہے جس میں نوجوان ، خواتین اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے شریف شہریوں اور خاص کر خواتین اوربچوں کافٹ پاتھوں سے گزرنا مشکل ہوگیا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے پولیس کو منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کئے تھے لیکن اس پر تاحال کوئی عملدرآمد ہوتانظرنہیں آرہا ہے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی تو ایک طرف اب سرعام منشیات اورشراب سڑکوں پر فروخت ہورہی ہے دوسری جانب شام ہوتے ہی جناح روڈ ،قندھاری بازار اورگردونواح میں خواجہ سراء سرعام فحاشی پھیلاتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کے خلاف بھی کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے ۔شہریوں کاکہنا ہے کہ پولیس منشیات ،شراب فروشوں اور فحاشی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی بجائے انکی مبینہ سرپرستی کررہی ہے اور شریف شہریوں کو تلاشی کے نام پر بلاجواز تنگ کیا جاتا ہے ۔شہریوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی ،صوبائی وزیرداخلہ میرضیاء لانگو ،آئی جی پولیس بلوچستان اوردیگر حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ شہر میں منشیات ، شراب فروخت کرنے اور فحاشی پھیلانے والوں کے خلاف موثر اور عملی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ نوجوان نسل کو منشیات ،شراب اور فحاشی سے بچایا جاسکے۔
