بینک صارفین کے اکاؤنٹس سے رقم نکلوانے والا گروہ پھر متحرک، شہریوں کے لاکھوں روپے اڑا لیے گئے

شہریوں میں شدید تشویش، بینک انتظامیہ مؤثر اقدامات کے بجائے صرف احتیاطی تدابیر کا مشورہ دینے لگی، اسٹیٹ بینک سے نوٹس لینے کا مطالبہ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت) بلوچستان میں بینک صارفین سے رقم نکلوانے والے گروہ ایک بار پھر متحرک ہو گئے ہیں، جس کے باعث شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ گزشتہ ایک سے دو ہفتوں کے دوران مختلف بینکوں کے متعدد صارفین سے لاکھوں روپے نکلوائے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔متاثرہ افراد کے مطابق فراڈ کرنے والا گروہ مختلف طریقوں سے شہریوں سے رابطہ کرکے حساس معلومات حاصل کرتا ہے اور بعد ازاں ان کے اکاؤنٹس سے رقم نکال لیتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم بینک انتظامیہ کی جانب سے مؤثر اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے۔متاثرین نے الزام عائد کیا ہے کہ جب انہوں نے متعلقہ بینک برانچز کے منیجرز سے رجوع کیا تو انہیں تسلی دینے یا کارروائی کی یقین دہانی کروانے کے بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ بینک حکام نے صارفین کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی نامعلوم کال کو اٹینڈ نہ کریں، اپنی ذاتی معلومات شیئر نہ کریں اور مشکوک پیغامات کو ہرگز نہ کھولیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ احتیاطی تدابیر ضروری ہیں، تاہم بینکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صارفین کے اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے کے لیے مؤثر نظام وضع کریں۔ ان کا مؤقف ہے کہ نقصان کی صورت میں مکمل ذمہ داری صارفین پر ڈالنا مناسب نہیں۔متاثرہ افراد نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کا نوٹس لیا جائے اور ان بینکوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو صارفین کی رقوم کے تحفظ میں ناکام ہیں۔شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بینکنگ نظام پر عوام کا اعتماد مجروح ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ اپنی رقوم گھروں میں رکھنے پر مجبور ہو جائیں گے، اور یوں ڈکیتی و دیگر جرائم میں اضافے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert