نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، سٹیٹ بینک نے 22 ماہ بعد شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا


کراچی(قدرت روزنامہ)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے، اس حوالے سے اہم اجلاس آج گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی سربراہی میں اسٹیٹ بینک ہیڈ آفس کراچی میں ہوا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے تناظر میں معاشی اعشاریوں کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں شرح سود 11.5 فیصدہوگئی، 22 ماہ کے بعد پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے قبل سفارش کی تھی کہ پالیسی ریٹ کو موجودہ 10.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے، اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں شرح سود میں کمی یا اضافہ دونوں ہی قبل از وقت اقدامات ہوں گے کیونکہ معیشت ابھی مکمل استحکام کی طرف نہیں آئی۔
ادارے کا کہنا تھا کہ مارچ 2026ء میں مہنگائی کی شرح ( سی پی آئی ) بڑھ کر 7.3 فیصد سالانہ ریکارڈ کی گئی جو فروری کے مقابلے میں اضافہ ظاہر کرتی ہے، اسی طرح دیہی علاقوں میں بنیادی مہنگائی 8.4 فیصد تک پہنچ گئی جس کی بڑی وجوہات میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹ لاگت اور سپلائی چین میں رکاوٹیں شامل ہیں، موجودہ حالات میں شرح سود میں کمی مہنگائی کی توقعات کو مزید بگاڑ سکتی ہے اور مرکزی بینک کی افراطِ زر پر قابو پانے کی پالیسی پر اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert