عمران خان کو رات کی تاریکی میں کہاں منتقل کیا گیا؟ حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے


لاہور (قدرت روزنامہ)اڈیالہ جیل قید میں سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی طبی دیکھ بھال ایک بار پھر تنازع کی صورت اختیار کر گئی ہے جب پیر کی علی الصبح انہیں غیر طے شدہ طور پر تیسری مرتبہ اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسلام آباد کے صحافی محمد ظریف کی رپورٹس کے مطابق عمران خان کو 27 اپریل 2026 کی رات تقریباً 1:50 بجے اڈیالہ جیل سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا۔سخت سیکیورٹی حصار میں انہیں طبی معائنے کے لیے لایا گیا جہاں وہ تقریباً ایک گھنٹہ سے کچھ زیادہ وقت زیرِ علاج رہے جس کے بعد انہیں 3:10 بجے دوبارہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔ ان اطلاعات کے مطابق یہ عمل انتہائی رازداری کے ساتھ انجام دیا گیا۔


تحریک انصاف کی قیادت نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے خفیہ منتقلی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایسے طبی دورے اکثر رات کی تاریکی میں کیوں کیے جاتے ہیں اور اس کی پیشگی اطلاع اہل خانہ یا قانونی ٹیم کو کیوں نہیں دی جاتی۔
یہ 2026 میں عمران خان کی صحت سے متعلق تیسری بڑی اسپتال منتقلی ہے جس سے ان کی طبی صورتحال پر مسلسل بحث جاری ہے۔ اس سے قبل جنوری میں 24 تاریخ کو انہیں مرکزی ریٹینل وین اوکلوژن کے علاج کے لیے پمز منتقل کیا گیا تھا جسے حکومتی موقف کے مطابق ماہرین کے مشورے پر معمول کی طبی کارروائی قرار دیا گیا۔ اسی طرح 24 فروری کو بھی انہیں آنکھ کے فالو اپ علاج کے لیے خصوصی طبی مرکز لے جایا گیا تھا جس پر پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے شفافیت کے فقدان اور اہل خانہ کو آگاہ نہ کرنے پر سخت احتجاج کیا تھا۔
حکومتی موقف کے مطابق یہ تمام طبی اقدامات صرف سابق وزیراعظم کی صحت کی بہتری کے لیے کیے جاتے ہیں۔ سرکاری ترجمانوں کا کہنا ہے کہ ہر منتقلی ماہر ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوتی ہے اور مریض کی رضامندی کے ساتھ مکمل طبی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ان کی قید کی سخت شرائط اور معلومات تک محدود رسائی کے باعث ان کی اصل طبی صورتحال واضح نہیں ہو پاتی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگرچہ عدالتی احکامات کے تحت میڈیکل بورڈز اڈیالہ جیل میں باقاعدہ چیک اپ کرتے ہیں تاکہ بار بار اسپتال منتقلی کی ضرورت نہ پڑے تاہم رات گئے ان اچانک دوروں نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔
پیر کی صبح تک اس تازہ ترین ہنگامی منتقلی کی کوئی باضابطہ میڈیکل رپورٹ جاری نہیں کی گئی تھی جس سے ان کے معائنے کی اصل وجہ واضح ہو سکے۔

WhatsApp
Get Alert