سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری، خدمت، حوصلے، خودداری، عالمی نمائندگی ،عملی سیاست اور موثر قانون سازی کی درخشاں مثال
تحریر: قدیر احمد انصاری

پاکستان کی سیاسی و سماجی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ابھری ہیں جو اپنے عہدے سے نہیں بلکہ اپنے کردار، عمل اور عوامی خدمت کے جذبے سے پہچانی گیہ ہیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ، سینیٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن اور سینیٹ میں نمایاں طور پر متحرک سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری انہی نمایاں اور باوقار شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت خالص اور عزم مضبوط ہو تو سیاست کو حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ وہ ایک باہمت، باوقار اور متحرک رہنما کے طور پر ہر اس موقع پر سامنے آتی ہیں جہاں عوام کو سہارا، آواز اور عملی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

قدرتی آفات خصوصاً موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث تباہ کن بارشوں اور سیلاب جیسی آزمائشوں کے دوران ان کا کردار غیر معمولی رہا ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں میں نہ صرف خود جا کر حالات کا جائزہ لیا بلکہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی بھی کی۔ راشن کی تقسیم، طبی سہولیات کی فراہمی، متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور فوری ریلیف اقدامات میں ان کی دلچسپی اور سنجیدگی اس بات کی عکاس ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتی ہیں۔ لسبیلہ اور حب میں ان کی مسلسل موجودگی اور عوامی خدمت نے انہیں وہاں کے لوگوں کے دلوں کے قریب کر دیا ہے۔ خصوصی طور پر ضلع حب میں نادار اور ضرورت مند افراد کے لیے ان کی فلاحی سرگرمیاں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے نہ صرف فوری امداد فراہم کی بلکہ ایسے اقدامات بھی کیے جو دیرپا بہتری کا باعث بن سکیں۔

خواتین کے لیے مختلف فلاحی اور تربیتی پروگرامز کا آغاز ان کے وژن کا اہم حصہ ہے۔ ہنر سکھانے کے مراکز، خواتین کی معاشی خودمختاری کے منصوبے، اور خواتین اور بچیوں کی صحت و تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ خواتین کو محض ہمدردی نہیں بلکہ بااختیار بنانے پر یقین رکھتی ہیں۔چین کے تعاون سے اسکولوں میں بچیوں کو صحت و صفائی کے حوالے سے جاری پروگرام (شی پاور) کے حوالے سے بھی سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی ذاتی دلچسپی قابل تحسین ہے۔ انہوں نے صوبہ کے مختلف شہروں میں اس پروگرام کے تحت سیفٹی کٹس فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مسحور کن شخصیت کے ذریعے موثر رہنمائی بھی کی ۔

اگر پارلیمانی سطح پر سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی کارکردگی دیکھی جائے تو یہ بھی بے حد متاثر کن رہی ہے۔ وہ سینیٹ آف پاکستان کی سب سے زیادہ متحرک اور فعال خواتین اراکین میں شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے متعدد اہم قراردادیں پیش کیں جن میں خواتین کے حقوق، بچوں کے تحفظ، تعلیم کے فروغ، صحت کے نظام کی بہتری، ماحولیاتی مسائل اور سماجی انصاف جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ ان کی قراردادیں محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ زمینی حقائق کی عکاسی کرتی ہیں، جن میں عوامی مسائل کی حقیقی تصویر اور ان کے حل کی سنجیدہ کوشش نظر آتی ہے۔ان کی قانون سازی میں دلچسپی، دلائل کی مضبوطی اور ایوان میں مو¿ثر اندازِ گفتگو انہیں ایک سنجیدہ اور باصلاحیت قانون ساز کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔ وہ ہر مسئلے کو گہرائی سے سمجھ کر اس پر بات کرتی ہیں، جس سے ان کی سیاسی بصیرت اور عوامی شعور کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں سینیٹ میں ایک مو¿ثر آواز کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ اور جنیواسمیت دیگر عالمی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ انہوں نے مختلف عالمی موضوعات پر نہایت پ±راعتماد، مدلل اور پ±رتاثیر انداز میں پاکستان کا مو¿قف پیش کیا۔ ان کی گفتگو میں نہ صرف فکری پختگی نظر آتی ہے بلکہ ایک باوقار اور ذمہ دار نمائندہ کے طور پر پاکستان کا مثبت تشخص بھی اجاگر ہوتا ہے۔ یہ ان کی خداداد صلاحیتوں، محنت اور عالمی امور پر گہری نظر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو ان کی خودداری اور اصول پسندی ہے۔ انہوں نے کبھی بھی اپنے شوہر میر علی حسن زہری کی سیاسی وابستگی یا نام کو بطور سہارا استعمال نہیں کیا بلکہ اپنی پہچان اپنی محنت، قابلیت اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے بنائی۔ انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ حقیقی کامیابی وہی ہوتی ہے جو انسان اپنے بل بوتے پر حاصل کرے۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ ایک خودمختار، مضبوط اور بااعتماد سیاسی شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نہ صرف ایک کامیاب سیاستدان بلکہ پاکستان کی تمام خواتین کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہیں۔ بالخصوص بلوچستان کی خواتین کے لیے وہ فخر کا باعث ہیں کہ ایک دخترِ بلوچستان نے اپنے قول و عمل سے نہ صرف صوبے کی خواتین کا سر فخر سے بلند کیا بلکہ عالمی سطح پر بلوچستان کا مثبت اور باوقار تشخص بھی اجاگر کیا۔ ان کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ محنت، عزم اور دیانتداری کے ساتھ خواتین ہر میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں۔ان کی سیاست میں خلوص، دیانتداری اور عوامی مسائل کے حل کی حقیقی خواہش نمایاں ہے۔ وہ صرف دعووں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہیں۔ ان کا طرزِ سیاست ان تمام لوگوں کے لیے ایک سبق ہے جو سیاست کو صرف اقتدار کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

آج کے دور میں جب عوام کو حقیقی قیادت کی تلاش ہے، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کا کردار امید کی ایک روشن کرن کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ان کی جدوجہد، خدمات اور کامیابیاں نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ قابلِ تقلید بھی ہیں۔ بلوچستان سمیت پورے پاکستان کے سیاسی رہنماو¿ں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کے طرزِ عمل سے سیکھیں اور عوامی خدمت کو اپنی سیاست کا مرکز بنائیں۔ بلا شبہ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے قول و فعل کے ذریعے ایک مثال قائم کی ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری سے یقیناً یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اسی جذبے اور عزم کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت جاری رکھیں گی اور پاکستان بالخصوص صوبہ بلوچستان کے سماجی و سیاسی منظرنامے میں مزید مثبت اور دیرپا کردار ادا کریں گی۔
