کوئٹہ کی گنجان آبادیوں پر راکٹ حملے، حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان، پشتونخوا نیپ
نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا سفاکانہ عمل ہے، حکومت رسمی بیانات کے بجائے ٹھوس اقدامات کرے، صوبائی سیکرٹریٹ کا سخت مذمتی بیان

کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک سخت مذمتی بیان میں کوئٹہ شہر کے گنجان آباد شہری علاقوں، جن میں اختر محمد روڈ، شانتی نگر، فقیر محمد روڈ، عثمانیہ گلی اور میر احمد خان روڈ شامل ہیں، پر راکٹ باری کے دہشت گردانہ واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نہتے، بے گناہ اور پرامن شہریوں، خواتین، بچوں اور عام آبادی کو نشانہ بنانا ایک انتہائی سنگین، انسانیت سوز، سفاکانہ اور ناقابلِ برداشت عمل ہے، جس نے نہ صرف شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے بلکہ حکومت، انتظامیہ اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ صوبائی سیکرٹریٹ نے کہا کہ کوئٹہ جیسے حساس، اہم اور صوبائی دارالحکومت شہر میں گنجان آباد آبادیوں پر اس نوعیت کے حملے اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے حکومتی دعوے کھوکھلے ثابت ہو چکے ہیں۔ اگر شہری اپنے ہی گھروں، محلوں، گلیوں، بازاروں اور کاروباری مراکز میں محفوظ نہیں، تو پھر ریاستی رٹ، سیکیورٹی پالیسی، انٹیلی جنس نظام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات جنم لینا ایک فطری امر ہے۔ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جب دارالحکومت میں یہ صورتحال ہے تو دور دراز علاقوں کے عوام کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا۔ بیان میں کہا گیا کہ مسلسل بدامنی، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں، اغوا برائے تاوان، جرائم پیشہ سرگرمیوں اور اب شہری آبادیوں پر راکٹ باری جیسے ہولناک واقعات نے صوبے، بالخصوص کوئٹہ کے عوام کو شدید ذہنی اذیت، خوف، عدم تحفظ اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہری اپنے بچوں، خاندانوں، کاروبار اور مستقبل کے حوالے سے سخت تشویش میں مبتلا ہیں، جبکہ ذمہ دار ادارے عوام کو مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے، جمہوری نظام اور ذمہ دار حکومت کے لیے لمحۂ فکریہ ہونی چاہیے۔ پارٹی نے کہا کہ کوئٹہ جیسے بڑے شہر میں راکٹ باری جیسے حملے نہ صرف سیکیورٹی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ جرائم پیشہ اور دہشت گرد عناصر دندناتے پھر رہے ہیں۔ اگر ان عناصر کے خلاف فوری، فیصلہ کن اور بلاامتیاز کارروائی نہ کی گئی تو اس کے نہایت خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ایسے واقعات سے عوام کا اعتماد ٹوٹتا ہے اور معاشرے میں بے چینی مزید بڑھتی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو صرف بیانات نہیں بلکہ عملی تحفظ فراہم کرے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہر بڑے واقعے کے بعد رسمی بیانات، وقتی اقدامات اور نمائشی سرگرمیوں تک بات محدود رہتی ہے، جبکہ زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ عوام اب زبانی دعوؤں کے بجائے ٹھوس اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ کے متاثرہ علاقوں پر ہونے والی راکٹ باری کے واقعے کی فوری، شفاف، غیر جانبدار اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں، حملے میں ملوث دہشت گرد عناصر، سہولت کاروں، منصوبہ سازوں اور پشت پناہی کرنے والوں کو فوری طور پر بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، اور یہ واضح کیا جائے کہ اتنے حساس شہر میں ایسے مہلک ہتھیار کیسے پہنچے اور کیسے استعمال ہوئے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ زخمی ہونے والے افراد کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، متاثرہ خاندانوں کے مالی نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے، اور متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں انٹیلی جنس نگرانی، پولیس گشت اور حفاظتی اقدامات کو بھی مؤثر بنایا جائے۔ صوبائی سیکرٹریٹ نے زور دیا کہ حکومت وقتی بیانات، نمائشی دوروں اور رسمی اقدامات کے بجائے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سنجیدہ، مؤثر، مستقل اور عملی اقدامات کرے۔ شہریوں کو مسلسل خوف، بدامنی، بے یقینی اور دہشت کے سائے میں چھوڑ دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہر قسم کی دہشت گردی، بدامنی، شہری آبادیوں پر حملوں اور انسانی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور عوام کے تحفظ، امن، انصاف، سیاسی استحکام اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر جمہوری، آئینی اور سیاسی فورم پر جدوجہد جاری رکھے گی۔
