پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کی بہت عزت کرتا ہوں


واشنگٹن (قدرت روزنامہ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کی بہت عزت کرتا ہوں۔ جمعہ کے روز صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کی ایک مرتبہ پھر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بہت عزت کرتے ہیں، پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی بہت عزت کرتے ہیں۔
ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن نئی تجاویزسے مطمئن نہیں ہوں۔ ایران سے ٹیلی فون پر بات ہو رہی ہے،کسی صورت نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں۔ واشنگٹن وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی تجاویز سے مطمئن اور خوش نہیں ہوں، ہم ایران کو اپنی حتمی تجاویز دے چکے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، ایران سے ٹیلی فون پر بات چیت ہورہی ہے، ایران نے جنگ بندی کیلئے کچھ باتیں مانی ہیں مگر یہ کافی نہیں، ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے کا یقین نہیں، ایران ہم سے معاہدہ چاہتا ہے اب اس کے پاس کچھ نہیں بچا، یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ ہمیشہ کیلئے ختم ہونا چاہتا ہے یا ڈیل کرنا چاہتا ہے۔
ایران کی لیڈرشپ تین سے چار حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ ایران کی قیادت بہت کنفیوژ ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کی نئی تجاویز ملنے کی تصدیق کردی ہے۔ میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران کی نئی تجاویز کی تفصیلات میڈیا پر نہیں بتائی جاسکتیں۔ نجی سفارتی بات چیت کو منظر عام پر نہیں لاسکتے۔ایران سے جنگ بندی کے معاملے پر بات چیت جاری ہے۔
صدر ٹرمپ کا مئوقف واضح ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ یاد رہے ایران نے مذاکرات کیلئے نئی تجاویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کو بھیج دیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کی جانب سے مذاکرات اور جنگ کے خاتمے کیلئے نئی تجاویز جمعرات کی شام کو بھیجی گئیں۔ مزید برآں ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے خطے میں اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے کئے ہیں۔
ایرانی وزیرخارجہ نے ترکیہ، مصر، قطر، سعودی عرب ، عراق اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیئے ہیں۔ عباس عراقچی نے مذاکرات اور جنگ بندی سے متعلق ایران کے مئوقف پر تبادلہ خیال کیا۔ ایران نے امریکا اوراسرائیل سے متعلق اپنی پالیسی اور اصولی مئوقف سے آگاہ کیا۔ ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے ایران کی کوششیں جاری ہیں، امریکا اپنے جنگی اخراجات اور نقصانات سے متعلق جھوٹ بول رہا ہے۔
پینٹا گون ایران جنگ میں اپنے نقصانات اور اخراجات چھپا رہا ہے، نیتن یاہو کی پالیسی نے امریکا کو بھاری معاشی نقصان پہنچایا۔ امریکا کو اب تک 100ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ امریکا کے اصل اخراجات 100ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔ امریکی شہری ہر ماہ تقریباً 500ڈالر کا اضافہ بوجھ برداشت کررہے ہیں۔دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم نے ایران کی بندرگاہوں پرناکہ بندی کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
سی این این کے مطابق ایرانی بندرگاہ کی ناکہ بندی کے ساتھ آبنائے ہرمز کی طویل مدتی بندش بھی شامل ہوگی، امریکا نے ایران کو معاہدے کیلئے دیئے گئے مطالبات میں جوہری معاملہ دوبارہ شامل کرلیا ہے۔ ایگزیوس رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے مشیر اسٹیووٹکوف نے معاہدے میں ترامیم ایران کو بھجوا دی ہیں۔ ایران کو مذاکرات کے دوران افزودہ یورینیم منتقل نہ کرنے کا وعدہ کرنا ہوگا۔ ایران یقین دہانی کرائے کہ جوہری تنصیبات پر کوئی سرگرمی شروع نہیں کرے گا۔

WhatsApp
Get Alert