خواجہ سعد رفیق کا ون کانسٹیٹیوشن ایونیو سے لاتعلقی کا اظہار، الزامات لگانے والوں کیخلاف کارروائی کا عندیہ
میرا یا میرے خاندان کا کوئی اپارٹمنٹ نہیں، اپارٹمنٹس کی ملکیت یا شراکت داری کی خبریں بے بنیاد پراپیگنڈہ ہیں؛ ن لیگی رہنماء کا بیان

لاہور(قدرت روزنامہ)پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے اسلام آباد کے مشہور “ون کانسٹیٹیوشن ایونیو” پراجیکٹ میں اپنی مبینہ سرمایہ کاری اور ملکیت سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری مہم کو سختی سے مسترد کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے اسلام آباد کے ” ون کانسٹیٹیوشن ایونیو” ٹاورز میں اپارٹمنٹس کی ملکیت یا شراکت داری سے متعلق خبروں کو بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دے دیا ہے، انہوں نے واضح کیا ہے کہ اس پراجیکٹ میں ان کی یا ان کے خاندان کی کوئی سرمایہ کاری نہیں ہے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں خواجہ سعد رفیق نے اپنے خلاف مہم چلانے والوں کو چار مختلف گروہوں میں تقسیم کیا، انہوں نے کہا کہ پروپیگنڈا مہم کے پیچھے پی ٹی آئی کے بعض ایسے پیروکار ہیں جنہیں اپنے سوا ہر کوئی کرپٹ نظر آتا ہے، ان میں پی ٹی آئی مخالف گروہ بھی شامل ہیں جو اس بات پر نالاں ہیں کہ خواجہ سعد رفیق پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی انتقامی مہم کا حصہ کیوں نہیں بن رہے۔
اسلام آباد میں constitution -1 پراجیکٹ میں شراکت داری یا عمارت میں کچھ اپارٹمنٹس کی ملکیت مجھ سے منسوب کرنیکی سوشل میڈیا مہم کل رات سے چلائ جا رھی ھے جبکہ میں اس کی وضاحت
9 اپریل 26 کو محترم مطیع اللّٰہ جان کی ٹویٹ کے جواب میں پہلے ھی کر چکا ھوں ۔۔الزامات لگانے والے کون ھیں… https://t.co/aswgKKpa5K
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) May 3, 2026
سابق وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ خارجہ پالیسی کے ناقدین بھی اس مہم میں شامل ہیں یہ وہ عناصر ہیں جو ایران کے خلاف امریکی جارحیت پر میرے کھلے اور دوٹوک امریکہ مخالف مؤقف کو پسند نہیں کرتے، اس کے علاوہ کچھ بہتان تراش لوگ ہیں، ان میں وہ لوگ شامل ہیں جو ہمیشہ دوسروں کی پگڑیاں اچھال کر ذہنی سکون حاصل کرتے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ون کنسٹی ٹیوشن ایونیو میں ان کا یا ان کے خاندان کا کوئی اپارٹمنٹ نہیں ہے، اس پراجیکٹ میں ان کی کبھی کوئی سرمایہ کاری نہیں رہی، وہ 9 اپریل 2026ء کو پہلے ہی مطیع اللہ جان کے ٹویٹ کے جواب میں یہ وضاحت کر چکے تھے، اس مفصل وضاحت کے بعد بھی اگر کسی اکاؤنٹ سے جھوٹا پراپیگنڈہ کیا گیا تو وہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
اپنے بیان میں حکومت کو تجاویز دیتے ہوئے انہوں نے پراجیکٹ کے حل کے لیے تین نکات پیش کیے کہ حکومت پلاٹ کی قیمت کی عدم ادائیگی سے ہونے والے نقصان کا منافع سمیت ازالہ کرے، جن لوگوں نے جائز طریقے سے ادائیگی کر کے اپارٹمنٹس خریدے ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، سہولت کاروں کے خلاف کارروائی ہو، ان ریگولیٹرز اور حکام کے خلاف ایکشن لیا جائے جنہوں نے ادائیگی نہ ہونے کے باوجود تعمیرات اور فروخت کو نہیں روکا۔
