حکومت نوجوان نسل کو مایوسی سے نکال کر عملی مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) حکومتی منصوبہ بندی کے مطابق گڈ گورننس روڈ میپ کے ذریعے انتظامی امور میں بہتری، دفتری کارکردگی میں اضافہ اور شہریوں کو بنیادی خدمات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ عوامی مسائل کے فوری حل، فیلڈ سطح پر نگرانی، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، آفیسران کی دفاتر میں حاضری اور ضلعی دفاتر میں سروس ڈیلیوری کے معیار کو بہتر بنانے پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے ماہانہ سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں عوام کی فلاح و بہبود کے اقدامات، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، دفاتر میں آفیسران و عملے کی حاضری کو یقینی بنانا، اجارہ گاڑیوں کی نیلامی، سسٹم کی ڈیجیٹائزیشن، ای فائلنگ، نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی سمیت دیگر اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے زور دیا کہ تمام محکموں کو اپنے سسٹمز کو ڈیجیٹائز کرنا ہوگا تاکہ کاغذی کارروائی کم ہو، اجلاس بلوچستان میں حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوامی فلاح کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے سیکرٹریٹ اور لائن ڈیپارٹمنٹس میں آفیسران اور عملے کی باقاعدہ حاضری کو یقینی بنانے کے لیے سخت ہدایات جاری کی گئیں۔ اجلاس کو اس موقع پر بتایا گیا کہ سول سیکرٹریٹ میں آفیسران و عملے کی حاضری میں نمایاں بہتری آئی ہے اور 80 فیصد تک حاضر رہتے ہیں اور اس میں مزید بہتری کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، کیونکہ ایک مضبوط اور مستحکم معیشت ہی نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے دروازے کھول سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوان نسل کو مایوسی سے نکال کر عملی مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے بھی بات کی جائے گی تاکہ صوبہ کوٹے پر مختص شدہ خالی آسامیوں پر تقرری کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے تمام سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ فائل ٹریکنگ سسٹم اور پاکستان سٹیزن پورٹل پر عوام کی جانب سے درج شکایات کو فوری طور پر حل کرنے پر خصوصی توجہ دیں اور جو کیسز پینڈنگ یا اوور ڈیو ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مانیٹرنگ اور ایویلوایشن سیکشن نے 1890 ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا ہے۔ تمام محکمے ترقیاتی منصوبوں کے پی سی_ 1 جمع کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ 2005 ماڈل سے پرانی گاڑیوں کی نیلامی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
