بلوچستان کسٹم اسکینڈل، لکپاس کسٹم ویئر ہائوس میں آگ لگ گئی پراسرار آگ نے حکومتی نگرانی اور احتساب پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان کسٹم، جو پہلے ہی چاندی کی اینٹوں کی تبدیلی کے اسکینڈل کی زد میں ہے، اب ایک نئے اور بڑے تنازع کا شکار ہو گیا ہے۔ کوئٹہ کے نواحی علاقے لکپاس میں واقع کسٹم ویئر ہاس میں اچانک بھڑک اٹھنے والی ہولناک آگ نے کروڑوں روپے کے ضبط شدہ سامان کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا ہے، جس کے بارے میں باوثوق ذرائع کا دعوی ہے کہ یہ کرپشن کے ثبوت مٹانے کی ایک دانستہ کوشش ہو سکتی ہے۔ آگ کے دوران گیس بوزر میں دھماکے سے 31 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے، جبکہ آتشزدگی کے باعث کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ تفتان قومی شاہراہیں ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ گودام میں موجود غیر ملکی سگریٹ، چھالیہ اور دیگر قیمتی اشیا مبینہ طور پر پہلے ہی مارکیٹ میں فروخت کی جا چکی تھیں اور ریکارڈ برابر کرنے کے لیے آگ کا سہارا لیا گیا۔ واقعے کے فوری بعد کسٹم عملہ جائے وقوعہ سے غائب ہو گیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مشتعل افراد نے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی ہوائی فائرنگ کے باوجود کئی اسمگلر اپنی گاڑیاں نکال کر فرار ہو گئے۔ ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا، تاہم عوامی و سیاسی حلقوں نے اس واقعے کی اعلی سطحی فرانزک تحقیقات اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسٹم میں موجود کالی بھیڑوں کا احتساب کیا جا سکے۔ دوسری جانب کسٹم حکام نے دانستہ آگ لگانے کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

WhatsApp
Get Alert