تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ وجے کا حکم: عبادت گاہوں، سکولوں اور بس اڈوں کے قریب شراب کی دکانیں بند کی جائیں


چنئی(قدرت روزنامہ)انڈین ریاست تمل ناڈو کے نو منتخب وزیراعلیٰ جوزف وجے نے ریاست گھر میں سکولوں، عبادت گاہوں اور بس سٹینڈز کے قریب واقع شراب کی دکانوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
انڈیا ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق اداکار سے سیاست دان اور پھر وزیراعلیٰ بننے والے جوزف وجے کے حکم کی زد میں سات سو 17 سرکاری شراب کی دکانیں آئی ہیں۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے جاری ہونے والے حکم نامے میں حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ مندروں، مساجد، تعلیمی اداروں اور بس سٹینڈز کے پانچ سو میٹر دائرے کی حد میں آنے والے شراب خانوں کو ایک دو ہفتے کے اندر مستقل طور پر بند کریں۔
وزیراعلیٰ آفس کی جانب سے منگل کو جاری کی گئی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ اس سروے کے بعد کیا گیا ہے جس میں حساس مقامات کے قریب دکانوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت تمل ناڈو سٹیٹ مارکیٹنگ کارپوریشن کے تحت چار ہزار سات سو 65 دکانیں چل رہی ہیں، جن میں سے سات سو 17 کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ حساس مقامات کے قریب موجود ہیں۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب عوامی سطح سے بھی ایسے مطالبات ابھرے جن میں رہائشی علاقوں سے شراب خانے بند کرنے کہا گیا۔
خیال رہے جوزف وجے تمل فلموں کے ایک سینیئر اداکار ہیں اور کچھ عرصہ پیشتر ہی انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے اپنی پارٹی بنانے کا اعلان کیا۔
جوزف وجے چندرشیکھر کی پارٹی ’تملگا ویٹری کژگم‘ (ٹی وی کے) نے انتخابات کے بعد اسمبلی میں اکثریتی جماعت بن کر ابھری۔
اور حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی جبکہ جوزف وجے نے ایک روز قبل ہی بطور وزیراعلیٰ حلف اٹھایا۔
اس کے فوراً بعد خطاب میں انہوں نے اپنے دور کو ’ایک نئی شروعات‘ قرار دیتے ہوئے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے 200 یونٹس مفت کرنے، خواتین کے تحفظ کے لیے سپیشل فورس بنانے اور سماجی انصاف کے لیے اقدامات کے احکامات جاری کیے تھے۔
انہوں نے جین زی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ ان کی وجہ سے ہے کہ TVK جیت گئی کیونکہ انہوں نے اپنے خاندان والوں کو اس پارٹی کو ووٹ دینے پر قائل کیا۔
انتخابات میں ان کی جماعت نے 234 ارکان پر مشتمل اسمبلی میں 108 نشستیں حاصل کر کے کامیابی سمیٹی اور تمل ناڈو کی پرانی اور مضبوط سیاسی جماعت ’دراوڑ منیترا کژگم‘ کو شکست دی۔

WhatsApp
Get Alert