پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہےلیکن وہاں گندم ، کپاس ، گنا اور آلو کاشت کرنےوالےکا استحصال ہورہاہے، اسد قیصر

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے اس وقت ملک میں عملاً کوئی قانون اور آئین نہیں ہے، ملک کو شخصی خواہشات کے مطابق چلایا جا رہا ہے ، ملک دن بدن مختلف خطرات سے دوچار ہوتا جا رہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا دو صوبے اس وقت عملاً جنگ کی زد میں ہیں، انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اور وہاں پاکستان کے خلاف جذبات اور نفرتیں بڑھ رہی ہیں جو بہت تشویشناک ہیں۔ اس سب کا تعلق ہماری پالیسیوں سے ہے، ہماری خارجہ اور داخلی پالیسی سے ہے۔ پنجاب ہمارا سب سے بڑا صوبہ ہے ، گندم کا کسان رو رہا ہے اور اس کا استحصال ہو رہا ہے۔ گندم کے کسان کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ گندم اُگانے سے انکار کرے۔ اسی طرح کپاس اور گنے کے کسان کو بھی وہ مؤثر نرخ نہیں مل رہے جن کا تعین کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ آلو کے کسان کا حال بھی آپ لوگوں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنی فصل کی بے توقیری پر آلو پانی میں بہا دیے، کیونکہ اُن کے آلو محفوظ رکھنے کے لیے گودام موجود نہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عملاً کسان کے ساتھ کھڑی ہو۔
اسد قیصر نے کہا تربیلا ڈیم کا پاور ہاؤس صوابی میں واقع ہے۔ پھر ہمیں دور دراز علاقوں سے گھما پھرا کر بجلی کیوں دی جا رہی ہے۔ وولٹیج بھی انتہائی کم ہوتا ہے۔ ہمیں براہِ راست تربیلا پاور ہاؤس سے بجلی کی لائن فراہم کی جائے۔ خیبر پختونخوا میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کو اس سال این ایف سی ایوارڈ میں 159 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ الٹا فاٹا انضمام کا مالی بوجھ بھی صوبے پر ڈال دیا گیا ہے اور وہاں کے اخراجات خیبر پختونخوا برداشت کر رہا ہے۔اس وقت خیبر پختونخوا کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔عدالتوں سے انصاف کی توقع رکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔ سائفر پر ہمارا مؤقف درست ثابت ہوا، لیکن آپ نے عمران خان پر جھوٹے مقدمات بنائے اور جھوٹے بیانات دلوائے۔ پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچ، سرائیکی ہم سب بھائی بھائی ہیں، لیکن ہم سب تب ایک جان ہوں گے جب اس ملک میں آئین اور قانون کا احترام ہوگا۔
